مہمان؛عبدالحنان شفیق

عنوان: مہمان
ازقلم : عبدالحنان شفیق
ایک دفعہ میں کسی کا مہمان بنا، مجھے سب سے مشکل کام کسی کا مہمان بننا لگتا ہے وہ بھی بِن بُلایا مہمان، خیر میزبان کے ساتھ بیٹھے گفتگو شروع ہوئی تو اچانک اُنہیں یہ خیال آیا کے میری دلچسپی بطور اُنکے ایران کی طرف لگ رہی ہے وہ ہر دوسرے انسان کو مشورہ اور اپنی سوچ مسلط کرنے میں مشہور تھے تو انہوں نے یہی سوچ مجھ پہ اپنائی جائے کیونکہ میں اُس وقت بھی لکھتا تھا اور اتنی سمجھ بوجھ بھی تھی کہ دوسرے انسان کو آسانی سے سمجھ سکوں لیکن میں اس ڈر سے سُنتا رہا کے میں اُنکا مہمان ہوں، میں خاموش رہا اور وہ آگئے بڑھتے گئے آپکو بتاتا چلوں کے میں اُس وقت اسلام آباد میں موجود تھا۔ تو بات آگئے بڑھی انہوں نے مجھے عرض کی کیونکہ آپ اسلام آباد میں موجود ہیں تو آپ ایران کے سفارتخانہ میں ایک دفعہ چکر لگا آئیں اور اُن سے پوچھ لیں کے اگر مجھے ایران جانا ہے تو میں کیا کروں۔
میں چونک گیا کہ کوئی انسان دوسرے کی زندگی کو لے کر اتنا سنگین حد تک کیسے سیریس ہوسکتا ہے میں نے اُن سے ایک دفعہ پوچھ لیا کیا آپ واقع مجھے لے کے سیریس ہیں! انہوں نے کہا جی بالکل میں آپکو کل آفس جاتے ہوئے راستے میں وہاں چھوڑ سکتا ہوں، میں نے کہا لیکن میں ابھی خود کفیل نہیں اپنے ماں باپ کے پیسوں پر پلتا ہوں تو انہوں نے فوراً سے کہہ دیا اُن سے میں بات کرلوں گا اُنکی فکر آپ ناکرو، میں ابھی اُنیس سال کا لڑکا تھا کسی کی باتوں میں آسانی سے آسکتا تھا مجھے میرے ساتھ اُس وقت سمجھانے والا بھی کوئی موجود نہ تھا۔ اب کیونکہ میں مہمان تھا میں نے عرض کی میں گھر جا کے سوچوں گا کسی طرح جان تو چھوڑوانی تھی، خیر مِیں اپنے گھر واپسی روانہ ہوا تو اُن صاحب کا فون آیا کے ٹرین مل گئی جی مل گئی میں روانہ ہو چُکا ہوں تو انہوں نے پھر کہا کے ایران والی بات کا سوچنا ضرور تو میں نے بےضر ہو کے جواب دیا صاحب نا تو اب میں کا مہمان ہوں اور نا آپ میرے میزبان تو یہ مشورہ اپنے پاس رکھیں۔
اور آج مجھے اُنکی اچانک یاد آئی کیونکہ میں آج جس مقام پر ہوں اپنے اعتبار سے بہت بہتر مقام پر ہوں اور اُن کا سوچتا ہوں کے آج بھی وہ نوجوان نسل میں یہ خیالات ڈالتے ہوں گے کہ اپنا مُلک اپنی زندگی چھوڑو اور کسی دوسرے کے محتاج بن کے دوسروں کے خیالات میں جیو سوچنا بند کرو پڑھنا لکھنا چھوڑو کمانا سیکھو
بچپن سے ایک ہی خیال دماغ میں آتا ہے کسی کا مہمان بن کے ضرور احسان پرور بننا ہے؟
اس لیے کہتے ” stay home stay safe “