تازہ ترین

افغان لڑکیوں کی تعلیم اور یونیسکو کی تازہ ترین رپورٹ

افغان لڑکیوں کی تعلیم: 24 لاکھ طالبات اسکولوں سے محروم

افغان لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے انتہائی تشویشناک اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے اب تک تقریباً 24 لاکھ افغان لڑکیاں ثانوی تعلیم حاصل کرنے کے حق سے محروم ہو چکی ہیں۔

اس کے علاوہ گزشتہ ایک سال کے دوران اس تعداد میں مزید 2 لاکھ لڑکیوں کا اضافہ ہوا ہے۔ افغانستان فی الحال دنیا کا واحد ملک ہے جہاں خواتین پر اسکولوں اور جامعات کے دروازے باضابطہ طور پر بند ہیں۔

تاریک مستقبل اور یونیسکو کا انتباہ

دوسری جانب یونیسکو نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ پابندی اسی طرح برقرار رہی تو آئندہ چند سالوں میں صورت حال مزید خطرناک ہو سکتی ہے۔

  • مستقبل کا خطرہ: سال 2030 تک تعلیم سے محروم ہونے والی لڑکیوں کی تعداد 40 لاکھ تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔
  • حقوق کی خلاف ورزی: یونیسکو کے مطابق علم حاصل کرنا ہر انسان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔
  • معاشی نقصان: اس فیصلے کے اثرات نہ صرف تعلیمی شعبے بلکہ ملک کی مجموعی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں۔
  • خواتین اساتذہ کی کمی: طالبات کی تعلیم رکنے سے مستقبل میں خواتین اساتذہ کا شدید قحط پیدا ہو سکتا ہے۔

چنانچہ یونیسکو نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ افغان خواتین کے ساتھ ہونے والے اس امتیازی سلوک کے خلاف آواز اٹھائے۔

سابقہ وعدے اور موجودہ حقیقت

تاہم اگر ماضی کے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو صورت حال بالکل مختلف تھی۔ اگست 2021 میں غیر ملکی افواج کے انخلا کے وقت طالبان نے عالمی برادری سے وعدہ کیا تھا کہ وہ تمام شہریوں کو بنیادی حقوق فراہم کریں گے۔

نیز انہوں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ خواتین کو اسلامی حدود میں رہتے ہوئے تعلیم اور روزگار کی آزادی ہوگی۔ لیکن اس کے باوجود مارچ 2022 میں لڑکیوں کے ثانوی اسکولوں کو یکلخت بند کر دیا گیا۔

بعد ازاں دسمبر 2022 میں طالبات کے یونیورسٹیوں میں داخلے پر بھی مکمل پابندی لگا دی گئی۔ اگرچہ ان اقدامات کو عارضی قرار دیا گیا تھا لیکن یہ پابندیاں تاحال برقرار ہیں۔

تعلیمی بحران اور ملکی خواندگی کی صورت حال

اس کے علاوہ افغانستان اس وقت مجموعی طور پر شدید تعلیمی اور بنیادی سہولیات کی بحرانی کیفیت سے گزر رہا ہے۔

  1. شرحِ خواندگی: ملک میں پڑھنے لکھنے کی شرح صرف 37 فیصد رہ گئی ہے۔
  2. بچوں کی تعلیمی حالت: 10 سال کی عمر کے 90 فیصد سے زائد بچے سادہ عبارت پڑھنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہیں۔
  3. اسکولوں کا نظام: ملک کے زیادہ تر اسکولوں میں گنجائش سے زیادہ بچے موجود ہیں اور بنیادی سہولیات بالکل ناپید ہیں۔
  4. آزادانہ نقل و حرکت: خواتین کے روزگار اور اکیلے سفر کرنے پر بھی سخت پابندیاں نافذ ہیں۔

یوں ان تمام عوامل کی وجہ سے ملک کا تعلیمی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔

افغان لڑکیوں کی تعلیم کا فوری بحالی کا مطالبہ

آخری بات یہ ہے کہ یونیسکو اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے طالبان حکومت سے مطالبات دہرائے ہیں۔ اداروں نے زور دیا ہے کہ افغان لڑکیوں کی تعلیم کا حق فوری طور پر بحال کیا جائے۔

خواتین پر عائد سفری اور روزگار کی پابندیاں ختم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ خواتین کو علم سے دور رکھ کر کوئی بھی معاشرہ پیش رفت نہیں کر سکتا۔

اس لیے افغان طالبان کو اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرنی ہوگی تاکہ ملک کا مستقبل محفوظ ہو سکے۔

اہم خبریں