خام تیل کی قیمتوں میں عالمی منڈی کے اندر مسلسل دوسرے ہفتے بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے دنیا بھر کی معیشتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں جاری شدید کشیدگی اور معاشی تعطل کے باعث سپلائی متاثر ہونے کے شدید خدشات پیدا ہو چکے ہیں۔
اس صورتحال کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں ایندھن کی قیمتیں مسلسل اوپر جا رہی ہیں۔ جمعہ کے روز برینٹ کروڈ کے دسمبر کے معاہدے مزید اضافے کے بعد 93.82 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ اس سے قبل بھی اس کی قیمت میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
علاوہ ازیں، امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمتیں بھی مسلسل اونچی سطح پر برقرار ہیں۔ گزشتہ پانچ مسلسل کاروباری سیشنز کے دوران برینٹ خام تیل میں سات فیصد اور امریکی خام تیل میں آٹھ فیصد سے زائد کا بڑا اضافہ ہو چکا ہے۔
نتیجتاً، دونوں کی قیمتیں گزشتہ کئی ماہ کی بلند ترین سطح پر جا پہنچی ہیں۔ اس اچانک تیزی نے توانائی کے عالمی اداروں کو گہری تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
خام تیل کی قیمتوں پر مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور ناکہ بندی کے اثرات
اس کے علاوہ، عالمی منڈی میں نرخوں کے مسلسل بڑھنے کی بنیادی وجہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تصادم ہے۔ اس بحران کے باعث سعودی عرب، عراق، متحدہ عرب امارات اور کویت جیسے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک سے خریداروں کو سپلائی میں کمی کا اندیشہ لاحق ہو گیا ہے۔
لہٰذا، عالمی تاجر اور کاروباری ادارے مستقبل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایندھن کا ذخیرہ کر رہے ہیں، جس سے مارکیٹ میں مانگ اور قیمتیں یکدم بڑھ گئی ہیں۔
ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ دنیا کی سب سے اہم آبی گزرگاہ یعنی آبنائے ہرمز میں سمندری جہازوں کی آمد و رفت میں تاریخی کمی واقع ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے بعد اس راستے سے یومیہ انتہائی کم بحری جہاز گزر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ دنیا بھر میں روزانہ استعمال ہونے والے کل ایندھن کا تقریباً 20 فیصد حصہ اسی ایک سمندری راستے سے نقل و حمل کے ذریعے دوسرے ممالک بھیجا جاتا ہے۔ چنانچہ، اس اہم راستے پر پابندیوں اور خطے کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں نے عالمی ترسیل کے نظام کو مکمل طور پر درہم برہم کر دیا ہے۔
آخری بات یہ کہ اگر خطے میں جاری یہ کشیدگی اور فوجی کارروائیاں جلد ختم نہ ہوئیں تو عالمی مارکیٹ پر دباؤ مزید بڑھے گا۔ ایندھن کی ترسیل میں تعطل کی وجہ سے نہ صرف ایندھن مزید مہنگا ہو جائے گا بلکہ دنیا بھر میں افراطِ زر اور مہنگائی کی ایک نئی لہر جنم لے سکتی ہے، جس سے تمام ترقی پذیر ممالک شدید متاثر ہوں گے۔




