تازہ ترین

ٹرمپ کو جگانے کا بٹن اور فیکٹ چیک کی رپورٹ

ٹرمپ کو جگانے کا بٹن: فیکٹ چیک میں اے آئی ویڈیو بے نقاب

ٹرمپ کو جگانے کا بٹن کے نام سے سوشل میڈیا پر ایک عجیب اور سنسنی خیز ویڈیو گردش کر رہی ہے۔ اس کلپ میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دورانِ تقریب اونگھتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں ان کے پاس ایک خاتون کھڑی نظر آتی ہے۔

دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ خاتون صدر کے سوتے ہی اپنی ناف میں موجود ایک خفیہ بٹن دباتی ہے۔ اس سے صدر کو ہلکا برقی جھٹکا لگتا ہے۔ یوں وہ فوراً بیدار ہو جاتے ہیں۔ تاہم فیکٹ چیک کے مطابق یہ دعویٰ بالکل غلط ہے۔ یہ دراصل جعلی اور جھوٹی خبر ہے۔

جعلی ویڈیو اور اے آئی ٹیکنالوجی کا کھیل

دوسری طرف تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ویڈیو میں دکھائی جانے والی خاتون اور بٹن کے مناظر مصنوعی ذہانت سے تیار کیے گئے ہیں۔

  • جعلی مناظر: اس کلپ کو خاص سافٹ ویئر اور کمپیوٹر الگورتھم کے ذریعے بنایا گیا ہے۔
  • صارفین کی غلط فہمی: اے آئی سے تیار کردہ اس ویڈیو نے انٹرنیٹ پر عام لوگوں کو سخت گمراہ کیا ہے۔
  • حقیقت سے دور: اصل میں کسی بھی قسم کے برقی بٹن یا خفیہ ڈیوائس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔

چنانچہ انٹرنیٹ پر پھیلایا جانے والا یہ سارا ڈرامہ محض عوام کی توجہ حاصل کرنے کا ایک سیاسی حربہ معلوم ہوتا ہے۔

میڈیکل مسئلہ اور پرانا انٹرنیٹ میم

اسی طرح اس کہانی کا آغاز ایک پرانی ویڈیو سے ہوتا ہے۔ اس ویڈیو میں ڈونلڈ ٹرمپ کے پیچھے ایک کاروباری شخصیت رون گراف سینئر کھڑے تھے۔ ان کے پیٹ اور ناف کا حصہ غیر معمولی طور پر ابھرا ہوا محسوس ہوتا تھا۔

تاہم بعد میں پتہ چلا کہ رون گراف کو ایک خاص طبی مسئلہ درپیش تھا۔ وہ امبلیکل ہرنیا نامی بیماری میں مبتلا تھے۔ اس بیماری میں ناف کا گوشت باہر کی طرف نکل آتا ہے۔

اس وقت سوشل میڈیا صارفین نے اس طبی مسئلے کو ایک مزاحیہ میم میں تبدیل کر دیا تھا۔ لوگوں نے اس ابھری ہوئی ناف کو طنزیہ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کو بیدار کرنے والا آلہ قرار دے دیا تھا۔

مزاحیہ کہانی کا نام “دی زیپر”

علاوہ ازیں صارفین نے اس مزاحیہ تصور کو مزید بڑھاوا دیتے ہوئے اس فرضی بٹن کو “دی زیپر” کا نام دے دیا تھا۔

  1. فرضی طنز: پہلے مرحلے میں اس منظر پر صرف مزاحیہ تبصرے کیے گئے۔
  2. شوشا اور افواہ: دوسرے مرحلے میں اس مزاح کو سچ بنا کر پیش کیا گیا۔
  3. جعلی شواہد: اب تیسرے مرحلے میں اس پرانی کہانی کو اے آئی کے ذریعے ایک نئی وائرل ویڈیو کا روپ دے دیا گیا ہے۔

بنا بریں ایک پرانے مذاق کو نئی شکل دے کر شائقین کے سامنے دوبارہ پیش کیا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ویوز حاصل کیے جا سکیں۔

ٹرمپ کو جگانے کا بٹن اور فیکٹ چیک کا حتمی نتیجہ

اس کے بعد ماہرین نے واضح کیا ہے کہ ٹرمپ کو جگانے کا بٹن والی ویڈیو میں زرہ برابر بھی سچائی نہیں ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ یا ان کے عملے کی جانب سے ایسی کسی ڈیوائس کے استعمال کا کوئی معتبر ثبوت موجود نہیں ہے۔

یہ ویڈیو محض مصنوعی ذہانت کے مناظر اور پرانے انٹرنیٹ میم کا ملا جلا روپ ہے۔ اس لیے عوام کو ایسی سنسنی خیز اور مصنوعی ویڈیوز پر بغیر تصدیق کے یقین نہیں کرنا چاہیے۔

خلاصہ اور قارئین کے لیے اہم سبق

آخری بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر موجود ہر دلچسپ اور وائرل چیز سچی نہیں ہوتی۔ ٹرمپ کو جگانے کا بٹن والی خبر نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جدید دور میں تصاویر اور ویڈیوز کے ساتھ آسانی سے پھیری کی جا سکتی ہے۔

لہٰذا کسی بھی سنسنی خیز خبر یا وائرل کلپ کو آگے شیئر کرنے سے پہلے اس کی مکمل تصدیق کرنا انتہائی ضروری ہے۔ تبھی ہم انٹرنیٹ پر پھیلی غلط معلومات سے خود کو اور دوسروں کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

اہم خبریں