تازہ ترین

ایران کے امریکا سے مطالبات اور آبنائے ہرمز کی صورتحال

ایران کے امریکا سے مطالبات: آبنائے ہرمز کا تنازع

ایران کے امریکا سے مطالبات پر مشتمل فہرست واشنگٹن کے حوالے کر دی گئی ہے۔ اس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے اہم شرائط پیش کی گئی ہیں۔

غیر ملکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ اہم فہرست ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے پیش کی۔

وہ اس تمام عمل میں مرکزی مذاکرات کار کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ تہران کی جانب سے یہ اقدام عالمی تجارت اور خاص طور پر تیل کی نقل و حمل کو بحال کرنے کے لیے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی اہمیت

اس کے علاوہ ایرانی مذاکرات کار نے امریکا سے ایک سابقہ معاہدے پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔

باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر پوری طرح سے عمل ہونا چاہیے۔ اس اہم معاہدے کی میعاد گزشتہ روز ہی ختم ہو چکی ہے۔

چنانچہ، ایرانی حکام کا موقف ہے کہ جب تک ماضی کے اتوار اور معاہدوں کا احترام نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک آگے بڑھنا مشکل ہوگا۔ لہٰذا امریکی انتظامیہ کو اس حوالے سے جلد فیصلہ کرنا ہوگا۔

ایران کے امریکا سے مطالبات اور فوجی کارروائیوں کا خاتمہ

دوسری جانب، مذکورہ مفاہمتی یادداشت میں دونوں ممالک کے درمیان اہم نکات پر اتفاق ہوا تھا۔

  • جنگ بندی: معاہدے کے تحت لبنان اور دیگر تمام محاذوں پر تمام فوجی کارروائیاں روکنا شامل تھا۔
  • ایٹمی پروگرام: ایران نے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے یا بنانے کا حق چھوڑنے پر اتفاق کیا تھا۔
  • بحری ناکہ بندی: امریکا نے ایرانی سرحدوں کے قریب تمام بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی ضمانت دی تھی۔
  • آبنائے ہرمز: اس کے بدلے میں تہران انتظامیہ نے آبنائے ہرمز کو عالمی جہاز رانی کے لیے کھلا رکھنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

اس طرح دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کا ایک واضح اور جامع طریقہ کار ترتیب دیا گیا تھا۔

اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ اور منجمد فنڈز

تاہم، اس معاہدے کا ایک اہم پہلو معاشی اور مالیاتی تعاون پر مبنی تھا۔ امریکا نے ایران پر عائد تمام سخت اقتصادی پابندیاں فوری ختم کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

مزید برآں، جنگ اور کشیدگی سے متاثرہ علاقوں کے لیے ایران کی تعمیرِ نو کا ایک پراسیس شروع کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔

علاوہ ازیں واشنگٹن انتظامیہ نے مختلف بینکوں میں منجمد کیے گئے اربوں ڈالر کے ایرانی فنڈز کو بحال کرنے پر بھی اتفاق کیا تھا تاکہ معیشت مستحکم ہو سکے۔

سفارتی رابطہ کاری اور مستقبل کا منظرنامہ

علاوہ ازیں، جدید سفارتی ذرائع سے حاصل ہونے والی اطلاعات بتاتی ہیں کہ موجودہ بحران عالمی مارکیٹ کو شدید متاثر کر رہا ہے۔

اگر امریکا ان شرائط کو تسلیم کر لیتا ہے تو خطے میں امن قائم ہو سکتا ہے۔ تاہم، اگر ان مطالبات کو مسترد کیا گیا تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔

اسی لیے دنیا بھر کے معاشی ماہرین اس سفارتی پیش رفت کو بہت غور سے دیکھ رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: وزارتِ داخلہ کے ادارے: خود مختاری اور اصلاحات کا نیا منصوبہ

خلاصہ اور نتائج

آخری بات یہ ہے کہ ایران کے امریکا سے مطالبات کا مقصد خطے میں قائم معاشی تعطل کو ختم کرنا ہے۔

اگر فریقین اسلام آباد معاہدے پر دوبارہ پیش رفت کرتے ہیں تو تجارتی شاہراہ بحال ہو سکتی ہے۔

تاہم، اب تمام تر دارومدار امریکی انتظامیہ کے ردعمل پر منصر ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ واشنگٹن اس صورتحال میں کیا قدم اٹھاتا ہے۔

اہم خبریں