بلوچستان میں زلزلہ آنے کے بعد متعدد علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق، اضلاع ژوب اور چمن میں شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.8 ریکارڈ کی گئی ہے۔
تاہم، اس قدرتی آفت کی گہرائی 15 کلومیٹر تھی۔ جبکہ، اس کا مرکز ژوب سے 122 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع تھا۔
زلزلے کا دھچکا محسوس ہوتے ہی شہری کلمہ طیبہ کا ورد کرنے لگے۔ لوگ فوری طور پر اپنے گھروں اور دکانوں سے باہر نکل آئے۔ تاہم، خوش قسمتی سے کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں میں حالات پر نظر رکھی ہوئی ہے۔
عوامی ردعمل اور خوف و ہراس کی صورت حال
دوسری جانب، اچانک آنے والے جھٹکوں نے شہریوں کو بری طرح ڈرا دیا ہے۔ بالخصوص ژوب اور چمن کی آبادی میں شدید تشویش دیکھی گئی۔
- شہریوں کا باہر نکلنا: لوگ فوری طور پر کھلی جگہوں کی طرف بھاگے۔
- مذہبی ورد: خوف کے عالم میں لوگ کلمہ طیبہ پڑھتے رہے۔
- املاک کی حفاظت: عمارتوں میں موجود لوگ کھلے میدانوں میں جمع ہو گئے۔
- امدادی ٹیمیں: مقامی حکام نے نقصانات کے جائزے کے لیے ٹیمیں متحرک کر دی ہیں۔
چنانچہ، زلزلے کے بعد لوگ کافی دیر تک دوبارہ گھروں میں جانے سے گریز کرتے رہے۔
بلوچستان کی جغرافیائی ساخت اور فالٹ لائنز
زمین کی اندرونی ساخت کی وجہ سے بلوچستان کو زلزلوں کا حساس علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں ‘چمن فالٹ لائن’ سمیت کئی اہم زیرِ زمین دراڑیں موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس خطے میں زمین کی نقل و حرکت اور جھٹکے اکثر ہوتے رہتے ہیں۔
تاریخی لحاظ سے بھی بلوچستان میں کئی بڑے زلزلے آ چکے ہیں۔ سنہ 1935 میں کوئٹہ میں آنے والا تباہ کن زلزلہ اس کی بڑی مثال ہے۔ اس لیے زلزلہ پیما مرکز اس علاقے کی زیرِ زمین تبدیلیوں پر مسلسل نظر رکھتا ہے۔
بلوچستان میں زلزلہ اور حالیہ زلزلوں کے تسلسل کا جائزہ
اس کے علاوہ، پاکستان کے دیگر حصوں میں بھی زلزلوں کا تسلسل جاری ہے۔ صرف دو روز قبل ساحلی علاقے کیٹی بندر کے قریب بھی زلزلہ ریکارڈ ہوا تھا۔
| علاقہ | شدت | گہرائی | مرکز |
| ژوب اور چمن | 4.8 | 15 کلومیٹر | 122 کلومیٹر شمال مشرق |
| کیٹی بندر (ساحل) | 4.5 | 40 کلومیٹر | 156 کلومیٹر جنوب مغرب |
| لاہور اور پنجاب | 4.5 | متفرق | مختلف شہری علاقے |
پی ایم ڈی کی رپورٹ کے مطابق، کیٹی بندر کے زلزلے کی گہرائی 40 کلومیٹر تھی۔ نیز، تین روز قبل لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہر بھی کانپ اٹھے تھے۔ یوں، ملک میں زلزلوں کی آمد کا یہ سلسلہ تشویش کا باعث بن رہا ہے۔
احتیاطی تدابیر اور ماہرین کی ہدایات
آخر میں، ماہرین نے شہریوں کو خبردار رہنے اور احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔ زلزلے کی صورت میں مضبوط جگہ کے نیچے پناہ لینا ضروری ہوتا ہے۔
مزید برآں، سیکیورٹی اور انتظامی اداروں کو بھی الرٹ رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔ بلوچستان میں زلزلہ کے اس حالیہ واقعے کے بعد مقامی حکام صورت حال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔




