پاکستان کی معروف سیاسی و مذہبی جماعت ’جماعت اسلامی‘ کے امیر حافظ نعیم الرحمن کی سفارت کاروں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے تحت حال ہی میں اسلامی جمہوریہ ایران اور اسلامی امارت افغانستان کے سفیروں نے لاہور میں واقع جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ کا دورہ کیا اور حافظ نعیم الرحمن سے الگ الگ اور اہم ترین ملاقاتیں انجام دیں۔
ان ملاقاتوں کے دوران خطے کی مجموعی سیاسی صورتحال، پاک ایران اور پاک افغان دوطرفہ تعلقات، تجارتی تعاون کی بڑھتی ہوئی ضرورت، بارڈر مینجمنٹ اور امتِ مسلمہ کو درپیش موجودہ درپیش چیلنجز پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔
ایران کے سفیر سے ملاقات اور اہم گفتگو
ایران کے سفیر نے منصورہ آمد پر امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں پر روشنی ڈالی گئی۔
ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان مضبوط اور مستحکم تعلقات نہ صرف دونوں ممالک کی معاشی ترقی کے لیے ضروری ہیں بلکہ خطے میں پائیدار امن کی ضمانت بھی فراہم کرتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسلم ممالک کو باہمی تنازعات اور تفریق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مشترکہ معاشی و دفاعی حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہیے۔
انہوں نے سرحدی تجارت کی بحالی اور بارڈر مارکیٹوں کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ سرحدی علاقوں کی عوام کی سماجی و معاشی حالت میں بہتری لائی جا سکے۔
ایرانی سفیر نے جماعت اسلامی کے مثبت کردار کی تعریف کی اور دونوں ممالک کے درمیان عوام سے عوام (Public-to-Public) کے رابطوں کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
افغانستان کے سفیر کی آمد اور پاک افغان تعلقات
اس اہم سلسلۂ ملاقات کے دوران افغانستان کے سفیر نے بھی امیر جماعت اسلامی سے تفصیلی گفتگو کی۔ اس ملاقات کا مرکزی نقطہ پاک افغان سرحدی امور، سیکیورٹی کے معاملات اور دونوں برادر ممالک کے درمیان تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنا تھا۔
حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دیرینہ جغرافیائی اور ایمانی تعلقات موجود ہیں۔ دونوں ممالک کے استحکام اور امن کا ایک دوسرے سے گہرا تعلق ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بارڈر پر کشیدگی اور باہمی بداعتمادی کے خاتمے کے لیے مذاکرات ہی واحد اور بہترین راستہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے وہاں پائیدار امن کے قیام کے لیے کوششوں کو تیز کیا جانا چاہیے تاکہ دونوں ممالک تجارتی سطح پر زیادہ سے زیادہ مستفید ہو سکیں۔
افغان سفیر نے جماعت اسلامی کی جانب سے افغان مہاجرین کی میزبانی اور انسانی بنیادوں پر فراہم کی جانے والی خدمات کو سراہا اور کہا کہ ان کی حکومت پاکستان کے ساتھ تمام تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنے اور باہمی تجارت و تعاون کو وسیع کرنے کی خواہش مند ہے۔
امتِ مسلمہ کے اتحاد اور اتحادِ بین المسلمین کا پیغام
ان دونوں سفارتی ملاقاتوں کے اختتام پر مشترکہ پریس ریلیز اور گفتگو کے دوران امیر جماعت اسلامی نے فلسطین اور غزہ کی موجودہ انسانی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی طاقتوں کے دہرے معیار کے مقابلے میں تمام مسلم ممالک کا ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا ناگزیر ہو چکا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے دونوں ممالک کے سفیروں کو باور کرایا کہ جماعت اسلامی ہمیشہ سے خطے میں قیامِ امن، ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات اور اسلامی بلاک کی تشکیل کی حمایتی رہی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر پاکستان، ایران اور افغانستان کے درمیان معاشی و تجارتی راہداریوں کو مکمل فعال کر دیا جائے تو یہ پورا خطہ ترقی و خوشحالی کی نئی بلندیوں کو چھو سکتا ہے۔
ان اہم ملاقاتوں کے موقع پر جماعت اسلامی کے نائب امیر، سیکرٹری جنرل اور امورِ خارجہ کے ذمہ داران بھی موجود تھے، جنہوں نے معزز مہمانوں کا گرمجوشی سے استقبال کیا اور تحائف پیش کیے۔




