تازہ ترین

پاک ایران دوطرفہ تجارتی مذاکرات

پاک ایران دوطرفہ تجارتی مذاکرات: آزاد تجارتی معاہدے اور بارٹر ٹریڈ کا فیصلہ

اسلام آباد میں منعقدہ پاک ایران دوطرفہ تجارتی مذاکرات کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں دونوں برادر ممالک نے باہمی معاشی تعلقات کو وسعت دینے کے لیے آزاد تجارتی معاہدے اور بارٹر ٹریڈ (مبادلہ باہمی) کے نظام کو حتمی شکل دے دی ہے۔

10 ارب ڈالر سالانہ تجارتی ہدف کے حصول کے لیے کی جانے والی اس اہم پیش رفت کا مقصد خطے میں تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنا اور دونوں ممالک کے نجی شعبے کو باہم مستفید کرنا ہے۔

پاک ایران دوطرفہ تجارتی مذاکرات پر اہم پیش رفت

پاکستان کے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور ایرانی وزیر صنعت، کان کنی و تجارت سید محمد اتابک کے درمیان ہونے والی تفصیلی ملاقات میں فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے تمام تکنیکی پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا۔

دونوں وزراء نے معاہدے کے ٹیکنیکل ڈرافٹ، پروڈکٹ لسٹس اور باہمی ٹیرف رعایتوں کے جائزے کے عمل کی مکمل ہونے کی تصدیق کی، جس کی باضابطہ اور حتمی توثیق جلد متوقع ہے۔

اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کی اہم صنعتی و تجارتی مصنوعات پر کسٹمز ڈیوٹیز میں نمایاں کمی کی جائے گی۔

بینکاری مسائل کا متبادل: بارٹر ٹریڈ کا فریم ورک

بین الاقوامی مالیاتی پابندیوں اور روایتی بینکاری چینلز کی دشواریوں کا حل نکالتے ہوئے دونوں ممالک نے بارٹر ٹریڈ (مبادلہ باہمی) کے دائرہ کار کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

نئے متفقہ طریقہ کار کے تحت:

پاکستان سے برآمدات: پاکستان ایران کو چاول، زرعی اجناس، پھل، گوشت اور ٹیکسٹائل و گارمنٹس کی مصنوعات فراہم کرے گا۔

ایران سے واردات: پاکستان ایران سے پیٹرو کیمیکلز، مائع قدرتی گیس (LPG)، توانائی اور تعمیراتی مواد حاصل کرے گا۔

اس نظام سے دونوں ممالک بغیر کسی غیر ملکی زرِ مبادلہ (Foreign Exchange) کے دباؤ کے، باہمی تجارت کا حجم باآسانی بڑھا سکیں گے۔

بین الاقوامی مالیاتی پابندیوں اور روایتی بینکاری چینلز میں حائل دشواریوں کا مستقل حل نکالتے ہوئے دونوں ممالک نے بارٹر ٹریڈ (مبادلہ باہمی) کے دائرہ کار کو مزید جامع اور فعال بنانے کی منظوری دی ہے۔

اس نظام کے تحت ڈالری ادائیگیوں کے بغیر براہِ راست اشیاء کے بدلے اشیاء کی ترسیل ممکن ہو سکے گی۔

نجی شعبے کی شمولیت اور جوائنٹ بزنس کونسل

مذاکرات کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ سرکاری سطح کے معاہدوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے دونوں ممالک کی چیمبرز آف کامرس اور پرائیویٹ سیکٹر کا باہمی رابطہ انتہائی ضروری ہے۔

اس مقصد کے لیے پاک ایران جوائنٹ بزنس کونسل کو متحرک کرنے اور تجارتی نمائشوں کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق، ان اقدامات سے نا صرف قانونی تجارت مستحکم ہوگی بلکہ سرحدی علاقوں میں اسمگلنگ کی غیر قانونی روک تھام میں بھی مدد ملے گی۔

پاکستان اور ایران نے اپنے اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے آزاد تجارتی معاہدے (FTA) اور بارٹر ٹریڈ (مبادلہ باہمی) کے نظام پر پیش رفت کی ہے۔اس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سالانہ تجارتی حجم کو 10 ارب ڈالر تک پہنچانا ہے۔

وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور ایرانی وزیر صنعت سید محمد اتابک کے درمیان ہونے والی ملاقات میں آزاد تجارتی معاہدے کے مسودے اور ٹیرف رعایتوں کا جائزہ مکمل کر لیا گیا ہے، جس کی حتمی توثیق جلد متوقع ہے۔

بینکاری اور مالیاتی رکاوٹوں کا حل نکالنے کے لیے بارٹر ٹریڈ کا فریم ورک تیار کیا گیا ہے۔ اس کے تحت پاکستان ایران کو چاول، پھل، حلال گوشت اور ٹیکسٹائل کی مصنوعات فراہم کرے گا، جبکہ ایران سے پیٹرو کیمیکلز، ایل پی جی اور توانائی کی دیگر اشیاء حاصل کی جائیں گی۔ اس اقدام سے بغیر کسی غیر ملکی زرِ مبادلہ کے دباؤ کے باہمی تجارت کو فروغ ملے گا۔

اہم خبریں