میر واعظ عمر فاروق کو بھارتی حکام نے ایک بار پھر گھر میں نظر بند کر دیا ہے۔ حریت رہنما کو خواجہ دگر کے سالانہ مذہبی اجتماع میں شرکت سے روک دیا گیا۔ یہ واقعہ مقبوضہ کشمیر کے شہر سری نگر میں پیش آیا۔ مقبوضہ وادی میں اس جابرانہ اقدام پر شدید غصہ پایا جاتا ہے۔
علاوہ ازیں، خواجہ بازار نوہٹہ میں ہر سال 3 ربیع الاول کو عرس کا اجتماع ہوتا ہے۔ یہ روایتی تقریب حضرت خواجہ بہاؤالدین نقشبند بخاری کے سلسلے میں منعقد کی جاتی ہے۔ اس موقع پر لوگ مزار کے اطراف نمازِ عصر ادا کرتے ہیں۔ تاہم، انتظامیہ نے حریت رہنما کو وہاں جانے نہ دیا۔
میر واعظ عمر فاروق کی نظر بندی اور ان کا ویڈیو پیغام
اس کے بعد، حریت رہنما کے دفتر نے ایک اہم ویڈیو پیغام جاری کیا۔ اس پیغام میں انہوں نے حکام کے اس عمل کو جابرانہ ذہنیت کا عکاس قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی اجتماعات سے روکنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
مزید برآں، انہوں نے کہا کہ سیاسی اور سماجی مسائل اٹھانے کی پاداش میں انہیں سزا دی جا رہی ہے۔ بھارتی حکومت کا یہ رویہ انتہائی افسوس ناک اور شرمناک ہے۔ لہٰذا، مسلمانوں کو ان کے مذہبی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔
مسلمانوں کے مذہبی حقوق کی مسلسل پامالی
علاوہ ازیں، انہوں نے مسلسل بے حسی اور بے توقیری کا مظاہرہ کرنے پر حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ لوگ روحانی وعظ سننے اور مذہبی رسومات ادا کرنے سے محروم کر دیے گئے ہیں۔ اس سے قبل بھی انہیں جامع مسجد میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی سے روکا جا چکا ہے۔
چنانچہ، انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے پر مسلسل خاموشی مزید نقصان کا باعث بنے گی۔ خاموشی کی وجہ سے مذہبی حقوق کو دبانا ایک معمول بن جائے گا۔ اس لیے، تمام لوگوں کو اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔
منتخب حکومت اور عالمی برادری کی ذمہ داری
آخری بات یہ کہ انہوں نے منتخب حکومت کو اس معاملے میں اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی تاکید کی۔ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔
اس کے علاوہ، طاقتور قوتوں کو اپنے ظالمانہ فیصلوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کیا جائے۔ تاکہ خطے میں مذہبی آزادی اور امن و امان قائم ہو سکے۔
علاوہ ازیں، انہوں نے مذہبی آزادی پر عائد کی جانے والی پابندیوں اور حکام کی بے حسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، بلکہ اس سے قبل بھی تاریخی جامع مسجد سری نگر میں انہیں جمعہ کی نماز کی امامت اور خطبہ دینے سے متعدد بار روکا جا چکا ہے۔
اس قسم کی مسلسل قدغنوں سے عام شہریوں کو روحانی بالیدگی اور مذہبی اجتماعات میں شریک ہونے کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے تنبیہ کی کہ اگر اس ناانصافی پر مسلسل خاموشی اختیار کی گئی، تو مسلمانوں کے بنیادی حقوق کو دبانے کا یہ عمل ایک دائم اور معمول کی پالیسی بن جائے گا۔
لہٰذا، کشمیری مسلمانوں اور ان کے مذہبی حقوق کے تحفظ کے لیے اب ہر سطح پر آواز اٹھانا لازمی ہو چکا ہے۔




