سلمیٰ آغا کی بھارت منتقلی کے حوالے سے تمام تر افواہوں اور خدشات پر اب پردہ اٹھ چکا ہے۔ ماضی کی معروف اور مقبول اداکارہ و گلوکارہ نے ایک حالیہ پوڈکاسٹ کے دوران اپنے اس بڑے فیصلے کی سب سے اہم وجوہات بیان کی ہیں۔
انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ کبھی بھی قانونی طور پر پاکستان کی شہری نہیں رہی تھیں۔ لہٰذا، ان کے بھارت میں رہائش اختیار کرنے کا فیصلہ کسی کے لیے بھی حیران کن نہیں ہونا چاہیے۔
علاوہ ازیں، انہوں نے اپنی خاندانی ہسٹری اور تعارف پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ان کا پورا خاندان ماضی میں برطانیہ منتقل ہو گیا تھا۔
اسی لیے تمام افراد کے پاس برطانوی پاسپورٹ موجود ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، ان کی والدہ اور نانی دونوں کا تعلق بھی ہندوستان کے شہر امرتسر سے تھا۔ چنانچہ، ان کا بھارت کے ساتھ ایک گہرا اور پرانا خاندانی اور جذباتی تعلق رہا ہے۔
سلمیٰ آغا کی بھارت منتقلی اور پاکستان سے وابستگی
اس کے علاوہ، سلمیٰ آغا کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستان میں صرف فنکار کے طور پر کام کیا تھا۔ تاہم، وہاں گزارا ہوا تمام وقت ان کی زندگی کا سب سے بہترین اور یادگار حصہ ہے۔
پاکستان میں ان کے بہترین دوست تھے اور وہ وہاں کے تکنیک کاروں اور ڈراموں کو ہمیشہ بہت پسند کرتی ہیں۔ فنکار کے لیے تمام سرحدیں بے معنی ہوتی ہیں، اسی لیے ان کا دل ہر جگہ جڑا رہتا ہے۔
ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ انہوں نے اپنی بھارتی شہریت کے بارے میں بھی اہم وضاحت پیش کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس بھارتی پاسپورٹ یا مکمل شہریت نہیں ہے۔
وہ ایک خصوصی بھارتی کارڈ اور اپنے برطانوی پاسپورٹ کے ذریعے ممبئی میں قانونی طور پر قیام پذیر ہیں۔ اس کارڈ کے ذریعے انہیں کسی بھی پولیس رپورٹ یا اجازت نامے کے بغیر طویل عرصے تک بھارت رہنے کی مکمل اجازت ہوتی ہے۔
فلمی کیریئر اور بیٹی کی بالی ووڈ سے وابستگی
مزید برآں، سلمیٰ آغا نے 1980ء اور 1990ء کی دہائی کے اوائل میں پاکستانی فلمی صنعت میں زبردست کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے بطور مرکزی اداکارہ اپنی شاندار پہلی فلم ‘نکاح’ سے بے پناہ مقبولیت سمیٹی۔
اس کے ساتھ ہی، ان کی سریلی آواز کے گائے ہوئے گیت بھی پاکستان اور بھارت دونوں ممالک میں بے حد پسند کیے گئے۔
آخری بات یہ کہ سلمیٰ آغا کی بیٹی زارا خان بھی بھارتی فلم انڈسٹری میں بطور اداکارہ و فنکارہ فعال ہیں۔ اس وقت سلمیٰ آغا اپنا زیادہ تر وقت ممبئی اور دبئی کے درمیان گزارتی ہیں۔
انہوں نے اپنے تمام مداحوں کا شکریہ ادا کیا جو آج بھی ان کے پرانے ڈراموں اور گانوں کو اتنی محبت سے یاد رکھتے ہیں۔




