تازہ ترین

چین کی اینیمیٹڈ فلم کے تخلیق کار ماں بیٹے

چین کی اینیمیٹڈ فلم: ناکامی سے کامیابی کی مکمل کہانی

چین کی اینیمیٹڈ فلم ‘نیو لائی’ کا سینما گھروں تک پہنچنا اور پھر باکس آفس پر کامیابی کے جھنڈے گاڑنا کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔

چین کے شہر ڈالیان میں رہنے والے شن یومینگ پیشے کے اعتبار سے ایک انٹیریئر ڈیزائنر تھے اور ان کا فلم سازی یا اینیمیشن کا کوئی پس منظر نہیں تھا۔

جب انہوں نے ایک اینیمیٹڈ فلم بنانے کا فیصلہ کیا تو ان کی 60 سال سے زائد عمر کی والدہ سن لی فینگ ان کی مدد کے لیے آگے آئیں۔ والدہ نے اپنے بیٹے کے خواب کو پورا کرنے کے لیے خود اسکرین رائٹنگ کی تکنیک سیکھی۔

یوں اس غیر معمولی ماں بیٹے کی جوڑی نے ایک چھوٹے سے کمرے سے پانچ سال کی طویل جدوجہد کا آغاز کیا۔

اس عرصے کے دوران انہوں نے فلم کے تمام شعبوں کا کام خود ہی سنبھالا۔ انہوں نے ڈائریکشن، کہانی کی تحریر، اینیمیشن ماڈلنگ، ایڈیٹنگ اور یہاں تک کہ مختلف کرداروں کی آوازیں بھی خود ہی ریکارڈ کیں۔

مزید برآں، فلم کا آخری گانا بھی والدہ نے خود تحریر کیا اور گایا۔ پانچ سال کی مسلسل محنت کے بعد جب 5 اگست کو فلم کو ریلیز کیا گیا تو مالی وسائل اور تجربے کی کمی واضح نظر آئی۔

فلم کا کوئی باقاعدہ ٹریلر، مناسب پوسٹر یا تشہیری مہم موجود نہیں تھی۔ نتیجتاً، پہلے نو دنوں میں پورے ملک میں صرف 236 ٹکٹ بکے اور محض سات ہزار یوآن کی آمدنی ہوئی۔

صورتحال اس حد تک بگڑ گئی کہ 14 اگست تک چین کے صرف چار سینما گھر اس فلم کو دکھا رہے تھے۔

چین کی اینیمیٹڈ فلم کا سوشل میڈیا پر وائرل ہونا اور غیر معمولی ردِعمل

کہانی میں ایک ڈرامائی موڑ اس وقت آیا جب ایک دیکھ بھال کرنے والے نے فلم کی غیر معیاری اینیمیشن اور انوکھے مناظر پر مبنی ایک مختصر ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی۔

دیکھتے ہی دیکھتے یہ ویڈیو وائرل ہو گئی اور انٹرنیٹ پر بحث کا موضوع بن گئی۔ عام طور پر لوگ بہترین کوالٹی کی فلمیں دیکھنے سینما جاتے ہیں، مگر یہاں لوگوں میں یہ تجسس پیدا ہوا کہ آخر ایک غیر معیاری فلم بغیر کسی جدید ٹیکنالوجی کی مدد کے کیسے بنائی گئی ہے۔

شائقین نے اس فلم کو مصنوئی ذہانت (AI) کے اس دور میں ایک حقیقی انسانی محنت کا نام دیا اور مزاحیہ انداز میں اسے دیکھنے کا فیصلہ کیا۔

اس اچانک مقبولیت اور تجسس کی وجہ سے سینما گھروں کو عوام کی مانگ پر اپنے فیصلے بدلنے پڑے۔ روزانہ کی اسکریننگز کی تعداد چھ سے بڑھ کر گیارہ ہزار سے بھی تجاوز کر گئی۔

فلم کا باکس آفس کلیکشن حیران کن طور پر 24.5 ملین یوآن (تقریباً 3.4 ملین ڈالر) سے اوپر نکل گیا۔ بغیر کسی بڑی سرمایہ کاری اور اشتہارات کے، صرف سوشل میڈیا پر پیدا ہونے والے اس تجسس نے ہی اس فلم کی سب سے بڑی مارکیٹنگ مہم کا کام کیا۔

آخری بات یہ کہ بغیر کسی ترویج کے شروع ہونے والا یہ سفر اب چین کی بڑی کامیابیوں میں شمار ہو رہا ہے۔ فلم کی اس زبردست کامیابی اور شائقین کی دلچسپی کے بعد تخلیق کار ماں بیٹے نے اس کے اگلے حصے پر بھی باضابطہ کام شروع کر دیا ہے۔

اہم خبریں