یمن میں حوثیوں کے حملے کی لہر نے بحیرہ احمر سے لے کر یمنی کے شہری علاقوں تک کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے تجارتی جہاز پر ہونے والے حالیہ حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
ان کے مطابق، بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حملے کے نتیجے میں 3 پاکستانی جاں بحق ہو گئے۔ جبکہ، ایک پاکستانی شہری شدید زخمی بھی ہوا ہے۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات عالمی بحری سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔
اس کے علاوہ، پاکستانی حکومت سعودی حکام اور یمنی انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطہ قائم کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے ریاض میں واقع سفارت خانے کو میتوں کی واپسی اور زخمی کی دیکھ بھال کی سخت ہدایت کی ہے۔
ذرائع کے مطابق، یہ المیہ باب المندب کے قریب اس وقت پیش آیا جب حوثیوں نے کارگو جہاز کے ڈیک کو نشانہ بنایا۔
ساحلی شہر مخا اور بحیرہ عرب میں تباہی
دوسری جانب، یمن کے ساحلی شہر مخا میں بھی تباہ کن فضائی کارروائی کی گئی ہے۔ وزارتِ صحت کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ حوثی باغیوں کی اس کارروائی میں 11 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ان جاں بحق افراد میں 3 عام شہری اور 8 فوجی اہلکار شامل ہیں۔
علاوہ ازیں، اس شدید حملے کے نتیجے میں 32 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ جبکہ، زخمیوں میں سے 6 افراد کی حالت انتہائی تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔
| حملے کا مقام | جانی نقصان | زخمی | متاثرہ فریق |
| باب المندب (کارگو جہاز) | 3 جاں بحق | 1 شدید زخمی | پاکستانی بحری عملہ |
| ساحلی شہر مخا (بندرگاہ) | 11 جاں بحق | 32 سے زائد زخمی | 3 شہری اور 8 فوجی اہلکار |
| ضلع حریب (مارب) | 2 جاں بحق | 7 زخمی | یمنی فوجی اہلکار |
یہ حملہ مخا کی بندرگاہ پر کیا گیا تھا۔ تاہم، اس سے قبل بحیرہ عرب کے ساحل پر قائم ایک آئل ریفائنری پر بھی ڈرون حملہ کیا گیا تھا۔
بحیرہ احمر اور یمن میں پیش آنے والے حالیہ تنازع کی سنگینی اور تجارتی جہاز پر ہونے والے حملے کے مناظر ذیل میں موجود ویڈیو میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
اس ویڈیو میں جانی نقصان، سیکیورٹی صورت حال اور فیلڈ کے تازہ ترین مناظر کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
یمن میں حوثیوں کے حملے اور جوابی کارروائیاں
اس کے علاوہ، یمنی فورسز نے بھی جوابی قدم اٹھاتے ہوئے حوثی باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ جنوب مغربی صوبے عدالی میں ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔
اس کارروائی میں حوثیوں کی خندقیں، سرنگیں اور فوجی گاڑیاں تباہ ہوئی ہیں۔ جبکہ، حوثی گروپ کو بھاری جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے۔
تاہم، اس کے باوجود حوثیوں کی طرف سے حملوں کا سلسلہ نہ تھم سکا۔ انہوں نے مارب گورنری کے ضلع حریب پر بھی ڈرون حملہ کیا۔ اس حملے میں 2 فوجی جاں بحق اور 7 زخمی ہو گئے۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران اس علاقے پر یہ دوسرا بڑا حملہ تھا۔
اعلیٰ حکام کی جانب سے الرٹ کی ہدایت
آخر میں، خطے کی بگڑتی صورت حال کے پیش نظر یمنی حکام نے تمام سیکیورٹی اداروں کو چوکنا رہنے کا حکم دیا ہے۔ صادرتی لیڈرشپ کونسل کے اراکین نے تمام فوجی یونٹوں کو باہمی رابطے مضبوط بنانے کی ہدایت کی ہے۔
یمن میں حوثیوں کے حملے سے نہ صرف مقامی آبادی متاثر ہو رہی ہے، بلکہ بین الاقوامی تجارتی راستے بھی شدید خطرات کی زد میں آ چکے ہیں۔




