تحریر: اسد اللہ چوہدری
آخری اپ ڈیٹ: 16 مئی 2026 | 06:15 PM
پاکستان میں آج Trending News Today کے مطابق معاشی اور کاروباری حلقوں میں دو بڑی پیش رفت سامنے آئی ہیں جنہوں نے ملکی مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک طرف جہاں عالمی منڈی کے اثرات کے باعث مقامی صرافہ بازاروں میں سونے کی قیمتوں (Gold Rate) میں غیر متوقع اور بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، वहीं دوسری طرف حکومت نے آئی ایم ایف (IMF) پروگرام کے تحت آئندہ مالیاتی بجٹ 2026-27 کے لیے سخت ترین ٹیکس شرائط کو تسلیم کرنے کا اشارہ دے دیا ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور کراچی کے باؤثر معاشی ذرائع کے مطابق، ان دونوں خبروں کے بعد ملک بھر کے تاجروں اور عام شہریوں میں تشویش اور سنسنی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ماہرینِ اقتصاد کا کہنا ہے کہ “آج کی بڑی خبر” براہِ راست پاکستان کے عام آدمی کی جیب اور ملک کے کاروباری مستقبل پر اثر انداز ہونے جا رہی ہے۔
سونے کی قیمت (Gold Rate in Pakistan Today) میں غیر متوقع کمی
صرافہ مارکیٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ Latest News کے مطابق، پاکستان کے بڑے شہروں لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت میں مجموعی طور پر بڑی کمی دیکھی گئی ہے، جس کے بعد نئی قیمت 476,262 روپے کی سطح پر آگئی ہے۔ عالمی منڈی میں سونے کے نرخ گر کر 4,539 ڈالر فی اونس ہونے کی وجہ سے مقامی بازاروں پر یہ اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
اس اچانک گراوٹ نے ان سرمایہ کاروں کو حیران کر دیا ہے جنہوں نے حالیہ دنوں میں سونا مہنگا ہونے کی امید پر خریدا تھا۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یو ایس اور ایران کے درمیان سفارتی لہر میں تبدیلی کے باعث اس وقت بلین مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے۔
بجٹ 2026-27 اور آئی ایم ایف (IMF Target for Pakistan) کی کڑی شرائط
دوسری جانب، وزارتِ خزانہ کے ذرائع سے موصول ہونے والی Trending News کے مطابق، حکومتِ پاکستان نے آئی ایم ایف کو جی ایس ٹی (GST) کی مد میں اضافی 2,000 ارب روپے جمع کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس سخت ترین فیصلے کے بعد آئندہ وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے اور تاجروں پر نئے ٹیکسز کا بوجھ ڈالے جانے کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
لاہور اور فیصل آباد کے چیمبر آف کامرس نے حکومت کے اس ممکنہ اقدام پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تاجر برادری کا مؤقف ہے کہ سیلز ٹیکس کی چھوٹ ختم کرنے اور پیٹرولیم لیوی میں ردوبدل سے ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان آسکتا ہے، جس سے نمٹنا عام شہری کے بس میں نہیں رہے گا۔
پنجاب میں کاروباری اوقات کی پابندی کا خاتمہ (Lahore Market Timings Update)
عوامی اور تجارتی سطح پر ریلیف فراہم کرنے کے لیے حکومتِ پنجاب نے ایک اور بڑی ٹرینڈنگ خبر شیئر کی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر صوبے بھر میں عید الاضحیٰ کے پیشِ نظر تمام شاپنگ مالز، ہوٹلوں اور مارکیٹوں پر رات 8 بجے دکانیں بند کرنے کی پابندی یکم جون تک ختم کر دی گئی ہے۔
لاہور، ملتان اور راولپنڈی کی انتظامیہ نے نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے تاجروں کو دیر تک کاروبار کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد عید کی خریداری کے سیزن میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا اور معیشت کو متحرک کرنا ہے۔
خلاصہ اور مستقبل کی صورتحال
ملک میں جاری معاشی اور سیاسی سنسنی خیزی یہ واضح کرتی ہے کہ آنے والے چند ہفتے پاکستان کی معیشت کے لیے انتہائی نازک ہیں۔ جہاں عوام کو عید سے قبل کاروباری اوقات میں نرمی ملی ہے، وہیں بجٹ 2026 کے بوجھ اور سونے کی قیمتوں کی بے یقینی نے سب کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔
کیا سونے کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے بعد یہ خریداری کا بہترین وقت ہے؟
آئی ایم ایف کی نئی شرائط سے عام آدمی کی ماہانہ آمدنی اور ٹیکس سلیب پر کیا فرق پڑے
پنجاب حکومت کی جانب سے مارکیٹ ٹائمنگز میں نرمی پر تاجر برادری کا ردعمل۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور دنیا بھر کی تازہ ترین خبروں سے باخبر رہنے کے لیے [یہاں کلک کریں]۔




