تازہ ترین

مصنوعی ذہانت میں سیکیورٹی خامی

اینڈرائیڈ سسٹمز اور مصنوعی ذہانت میں سیکیورٹی خامی

مصنوعی ذہانت میں سیکیورٹی خامی اور اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کی حالیہ کمزوریوں کے حوالے سے بین الاقوامی سائبر سیکیورٹی ماہرین اور گوگل نے نئی تشویشناک رپورٹس جاری کی ہیں۔ عالمی سطح پر سیکیورٹی ریسرچرز نے انکشاف کیا ہے کہ اوپن سورس اینڈرائیڈ اے آئی (AI) ایجنٹس اور موبائل پلیٹ فارمز میں کچھ ایسی تکنیکی خامیاں پائی گئی ہیں جو ہیکرز کو بغیر اجازت ڈیوائسز کا کنٹرول حاصل کرنے اور حساس ڈیٹا تک رسائی کا موقع فراہم کر سکتی ہیں۔ گوگل کی جانب سے اس سلسلے میں ہنگامی طور پر درجنوں سیکیورٹی پیچز جاری کیے گئے ہیں تاکہ اربوں اینڈرائیڈ صارفیں کو ان سائبر حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔

تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق اوپن سورس موبائل اے آئی فریم ورکس (جیسے AppAgent اور Open-AutoGLM) پر کی گئی آزمائش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ بصری پیغامات یا پوشیدہ ٹیکسٹ کوڈز کے ذریعے اے آئی ایجنٹس کو گمراہ کیا جا سکتا ہے۔ جب کوئی صارف اپنے سمارٹ فون پر اے آئی اسسٹنٹ کا استعمال کرتے ہوئے سکرین شاٹ لیتا ہے یا پرامپٹ (Prompt) دیتا ہے، تو ہیکرز کی طرف سے بھیجا گیا ایک مبہم اور غیر مرئی متن بھی اے آئی ایجنٹ کے ذریعے پروسیس ہو کر کمانڈ ایگزیکیوشن کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس طریقہ کار سے حملہ آور کسی بھی بیرونی اجازت (Permission) کے بغیر فون کے بیک اینڈ میں کوڈ رن کر سکتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ گوگل اینڈرائیڈ کے سسٹم فریم ورک میں بھی ایک شدید نوعیت کی زیرو ڈے (Zero-day) یا اختیارات کے ناجائز استعمال (Privilege Escalation) سے متعلق سیکیورٹی خامی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس خامی کی مدد سے کسی عام تھرڈ پارٹی ایپلی کیشن کے ذریعے فون کے اندر نچلے درجے کی ڈیوائس پرمیشنز کو اعلیٰ ترین سسٹم رسائی (Root/System level access) میں بدلا جا سکتا ہے۔ جب یہ فونز کارپوریٹ نیٹ ورکس یا حساس کاروباری ٹولز اور اے آئی چیٹ بٹس سے جڑے ہوتے ہیں، تو یہ سیکیورٹی شگاف کمپنی کے پورے ڈیٹا بیس کے لیے بڑا خطرہ بن جاتا ہے۔

مصنوعی ذہانت میں سیکیورٹی خامی کے تدابیر اور گوگل کے حفاظتی اقدامات

گوگل اور سیکیورٹی ڈیوائس مینوفیکچررز نے اس مصنوعی ذہانت میں سیکیورٹی خامی اور اینڈرائیڈ سسٹم کی کمزوریوں کا فوری نوٹس لیتے ہوئے حالیہ سیکورٹی بلیٹن کے ذریعے زبردست پیچز فراہم کیے ہیں۔ سائبر سیکیورٹی ڈویژن اور ‘گوگل پلے پروٹیکٹ’ (Google Play Protect) نے تمام صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے سمارٹ فونز کو فوری طور پر تازہ ترین جولائی سیکیورٹی پیچ پر اپ ڈیٹ کریں۔ اس کے علاوہ غیر تصدیق شدہ ذرائع (Third-party APKs) سے اپلی کیشنز ڈاؤن لوڈ کرنے سے مکمل طور پر پرہیز کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق موجودہ دور میں اے آئی (AI) اور موبائل سسٹمز کے یکجا ہونے کی وجہ سے سیکیورٹی کا دائرہ کار مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ صرف لارج لینگویج ماڈلز (LLMs) کے آگے فلٹر لگانا کافی نہیں ہے بلکہ ڈیٹا پروسیسنگ اور کمانڈ ہینڈلنگ کے ہر مرحلے پر سخت سیکیورٹی چوکیوں کی ضرورت ہے۔ اب سائبر حملہ آور محض روایتی وائرس نہیں بناتے بلکہ وہ مصنوعی ذہانت کے ماڈل کی منطق کو دھوکہ دے کر سسٹم کمانڈز حاصل کر لیتے ہیں۔

اس تمام تر صورتحال میں ٹیک کمپنیوں نے واضح کیا ہے کہ آئندہ آنے والی اینڈرائیڈ اپ ڈیٹس میں اے آئی ایجنٹس کے لیے الگ سے ‘سینڈ باکسنگ’ (Sandboxing) اور آٹومیٹک سکرین ریڈنگ پر پابندیوں جیسے نئے فیچرز شامل کیے جا رہے ہیں تاکہ پرائیویسی پر کوئی حرف نہ آئے۔ تمام صارفین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے فون کی سیٹنگز میں جا کر سیکیورٹی اپ ڈیٹس آن رکھیں اور اے آئی ٹولز کو حساس ڈیٹا تک رسائی دیتے وقت احتیاط برتیں۔

اہم خبریں