تازہ ترین

آرٹیفیشل انٹیلی جنس

آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور سائبر سیکیورٹی: نئے چیٹ باٹس اور سیکیورٹی چیلنجز

آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور سائبر سیکیورٹی اس وقت عالمی اور ملکی سطح پر ٹیکنالوجی کے شعبے میں سب سے زیادہ زیرِ بحث موضوعات بن چکے ہیں۔

دنیا بھر کی معروف ٹیک کمپنیوں جیسے گوگل، اوپن اے آئی، اور مائیکروسافٹ کی جانب سے جہاں جدید ترین اے آئی ماڈلز متعارف کرائے جا رہے ہیں، وہی سائبر حملوں اور ڈیٹا پرائیویسی کے خطرات میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اوپن سورس اے آئی فریم ورکس اور سمارٹ فونز کے سسٹمز کو ہیکنگ اور مالویئر اٹیکس سے محفوظ رکھنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر نئے سیکیورٹی پیجز (Security Patches) انسٹال کرنا انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔

عالمی ٹیک رپورٹس اور پاکستانی نیوز چینلز (جیسے جیو نیوز، ایکسپریس اور ڈیلی پاکستان) کی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، اینڈرائیڈ اور آئی او ایس (iOS) دونوں آپریٹنگ سسٹمز میں حالیہ دنوں کچھ ایسی تکنیکی خامیاں (Vulnerabilities) دیکھی گئی ہیں جن کا فائدہ اٹھا کر ہیکرز صارف کے ذاتی ڈیٹا، بینکنگ معلومات اورGemini یا دیگر اے آئی سروسز کے تصدیقی کوڈز تک رسائی حاصل کر سکتے تھے۔

اس خطرے کے سدِباب کے لیے گوگل کی جانب سے نیا اینڈرائیڈ سسٹم سیکیورٹی اپ ڈیٹ جاری کر دیا گیا ہے، جس کے تحت صارفین کو فوری طور پر اپنے ڈیوائسز اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں ڈوئل ڈیوائسز، فولڈ ایبل سمارٹ فونز اور پروسیسر چپس (مانند اسنیپ ڈریگن اور ایپل بیونک چپس) کی دوڑ بھی تیز ہو چکی ہے۔

کمپنیاں اب پروسیسرز کے اندر ہی خصوصی این پی یو (NPU – Neural Processing Unit) شامل کر رہی ہیں تاکہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے پیچیدہ کام انٹرنیٹ کے بغیر خود ڈیوائس کے اندر ہی تیز رفتاری سے مکمل کیے جا سکیں۔

آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور سائبر سیکیورٹی: سمارٹ فونز اور ڈیجیٹل ڈیٹا کی حفاظت

آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور سائبر سیکیورٹی کے باہمی تعلق کو سمجھنا اب ہر سمارٹ فون اور انٹرنیٹ صارف کے لیے ضروری ہو چکا ہے۔

جہاں ایک طرف اے آئی کے ذریعے تحریر، تصاویر اور ویڈیو جنریشن کے کام سیکنڈوں میں ہو رہے ہیں، وہی دوسری طرف ہیکرز بھی فیک آڈیو/ویڈیو (Deepfakes) اور فشنگ (Phishing) حملوں کے لیے مصنوعی ذہانت کے الگورتھم استعمال کر رہے ہیں۔

پاکستان میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) اور نیشنل سائبر سیکیورٹی الرٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے بھی شہریوں اور تجارتی اداروں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ غیر تصدیق شدہ تھرڈ پارٹی ایپس (Third-party Apps) اور اے آئی ٹولز کو ڈاؤن لوڈ کرنے سے گریز کریں۔

غیر محفوظ ایپلیکیشنز کے ذریعے ڈیٹا چوری ہونے اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سیکیورٹی گائیڈ لائنز کے مطابق صارفین کو ٹو فیکٹر اتھینٹیکیشن (2FA) فعال رکھنے اور مضبوط پاس ورڈز استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

ٹیک تجزیہ کاروں اور آئی ٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں فائیو جی (5G) نیٹ ورک کے نفاذ اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے فروغ کے ساتھ ہی سیکیورٹی چیلنجز مزید پیچیدہ ہوں گے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی پیشرفت: سافٹ ویئر انڈسٹری رپورٹ

لہٰذا، سافٹ ویئر ڈوپلپرز اور عام صارفین دونوں کو جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ سائبر حفظانِ صحت (Cyber Hygiene) کے اصولوں پر سختی سے عمل پیرا ہونا پڑے گا تاکہ ایک محفوظ اور خود مختار ڈیجیٹل ماحول قائم کیا جا سکے۔

اہم خبریں