پاکستان اسٹاک مارکیٹ اور معاشی صورتحال کے حوالے سے کاروباری طبقے اور سرمایہ کاروں کے لیے اہم اور مثبت خبریں سامنے آئی ہیں۔
ایف بی آر (FBR) کی جانب سے جولائی کے ماہانہ ٹیکس ہدف کی کامیاب دستیابی، غیر ملکی سرمایہ کاروں کی آمد اور عالمی منڈیوں کے اثرات کے باعث ملکی معیشت مستحکم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
روزنامہ ‘ڈیلی پاکستان’ اور مالیاتی ذرائع کی رپورٹس کے مطابق کراچی اسٹاک ایکسچینج (KSE-100 Index) میں زبردست تیزی دیکھی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے اور مارکیٹ انڈیکس میں ہزاروں پوائنٹس کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ایف بی آر کے باضابطہ اعداد و شمار کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے جولائی کے مہینے میں 820 ارب روپے سے زائد کا ٹیکس ریونیو اکٹھا کر کے مقررہ ہدف سے 40 ارب روپے سے زائد اضافی وصولی کی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکس وصولیوں میں یہ پیشرفت اور حکومت کے مالیاتی نظم و ضبط کی بدولت آئی ایم ایف (IMF) اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ معاہدوں کی تعمیل میں آسانی پیدا ہوگی۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب سے امریکی اعلیٰ سطحی 30 رکنی کاروباری وفد کی اہم ملاقاتیں بھی طے پائی ہیں، جس میں زراعت، آئی ٹی اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری اور نئی تکنیکی شراکت داریوں پر اتفاق کیا گیا ہے۔
پاکستان اسٹاک مارکیٹ اور معاشی صورتحال: سونے کے نرخ، پیٹرولیم مصنوعات اور غیر ملکی زرمبادلہ
پاکستان اسٹاک مارکیٹ اور معاشی صورتحال پر عالمی منڈی میں خام تیل (Brent & WTI Crude Oil) کی قیمتوں کے اثرات بھی مرتب ہو رہے ہیں
۔ انٹرنیشنل مارکیٹ میں پٹرولیم خام تیل کے نرخوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث مقامی مارکیٹ میں پیٹرول اور ڈیژل کی قیمتوں میں استحکام کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے پیداواری لاگت اور نقل و حمل کے اخراجات میں کمی آئے گی اور عام عوام کو مہنگائی کی شدت سے ریلیف مل سکے گا۔
سرافہ مارکیٹ کے حوالے سے جاری کردہ تفصیلی رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں بلین (Bullion) قیمتوں کی ایڈجسٹمنٹ اور روپے کے مستحکم ہونے کے سبب مقامی صرافہ بازار میں فی تولہ سونے اور چاندی کے نرخوں میں وقتی طور پر کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔
آل پاکستان صرافہ و جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 24 کیپٹ فی تولہ سونے کی قیمتوں میں ہزاروں روپے کا ہیر پھیر دیکھا گیا، جس سے زیورات کی تیاری اور سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے خریداری کا سازگار موقع پیدا ہوا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں گندم کی شدید قلت: صوبوں نے وفاق سے 22 لاکھ ٹن گندم مانگ لی
تجارت اور بزنس کمیونٹی کے رہنماؤں نے ان پیشرفتوں کو معاشی بحالی کا پیش خیمہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت انہی اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو جاری رکھتی ہے تو برآمدات (Exports) میں اضافہ اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں مسلسل کمی دیکھنے کو ملے گی، جس سے مقامی انڈسٹری کی پیداواری صلاحیت میں مزید بہتری آئے گی۔




