آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی انتخابات کے بعد مختلف حلقوں میں ووٹنگ اور گنتی کے عمل کے اختتام پر سیاسی فضا میں زبردست جوش و خروش اور ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔
ریاست آزاد جموں و کشمیر کے تمام اضلاع بشمول مظفر آباد، میرپور، کوٹلی، پونچھ اور باغ کے علاوہ پاکستان کے مختلف شہروں میں مقیم مہاجرینِ جموں و کشمیر کے لیے مخصوص نشستوں پر رائے دہی کا عمل مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کا شمار اور حتمی نتائج کی تدوین کا مرحلہ تیزی سے جاری ہے۔
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کی جانب سے موصول ہونے والے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق مختلف اہم سیاسی جماعتوں کے مابین کڑا مقابلہ جاری ہے، جس پر قومی اور علاقائی سطح کے سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
حالیہ انتخابی نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی (PPP)، اور پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے نامزد امیدواروں کے درمیان متعدد حلقوں میں چند سو ووٹوں کا معمولی فرق دیکھا جا رہا ہے۔
مظفر آباد اور میرپور کے گنجان آباد حلقوں میں ووٹنگ کا تناسب قابل ذکر رہا، جہاں صبح سے شام تک پولنگ اسٹیشنز پر مرد و خواتین ووٹرز کی لمبی قطاریں نظر آئیں۔
مقامی ذرائع ابلاغ اور الیکشن کمیشن کے ترجمان کے مطابق مجموعی طور پر امن و امان کی صورتحال قابو میں رہی، تا ہم چند حساس پولنگ اسٹیشنز پر کارکنان کے درمیان معمولی تلخ کلامی اور جھڑپوں کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے جن پر پولیس اور رینجرز کے دستوں نے فوراً قابو پا لیا۔
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی انتخابات، مہاجرین کی نشستیں اور حکومتی جوڑ توڑ
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی انتخابات میں سب سے زیادہ اہم اور فیصلہ کن کردار پاکستان میں مقیم مقبوضہ جموں و کشمیر کے مہاجرین کی ۱۲ مخصوص نشستیں ادا کرتی ہیں، جن پر لاہور، راولپنڈی، کراچی اور دیگر شہروں میں پولنگ کا انعقاد کیا گیا۔
ان مہاجرین کی نشستوں کے نتائج عموماً مظفر آباد میں بننے والی اگلی حکومت کا رخ متعین کرتے ہیں۔ غیر حتمی اعداد و شمار کے مطابق مختلف حلقوں میں گنتی کا عمل حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے، اور کئی اہم رہنماؤں کی جیت و ہار کے ابتدائی رجحانات سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں۔
انتخابی نتائج کا سلسلہ آگے بڑھنے کے ساتھ ہی مظفر آباد میں حکومت سازی کے لیے سیاسی جوڑ توڑ کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔ مختلف جماعتوں کے مرکزی رہنماؤں نے آزاد امیدواروں اور دیگر اتحادی فریقین کے ساتھ رابطے قائم کرنے کے لیے ہنگامی اجلاس طلب کر لیے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں نے بعض حلقوں میں برتری کا دعویٰ کیا ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے صوبائی و مرکزی عہدیداروں نے بھی متعدد سیٹوں پر فتح کی امید ظاہر کی ہے۔
مزید پڑھیں: حافظ نعیم الرحمن سے ایران اور افغانستان کے سفیروں کی ملاقات
دوسری جانب کچھ سیاسی حلقوں کی جانب سے چند حلقوں میں دوبارہ گنتی اور دھاندلی کے الزامات کے ساتھ الیکشن ٹربیونل سے رجوع کرنے کے بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
علاقائی تجزیہ کاروں اور معاشی مبصرین کا ماننا ہے کہ نئی تشکیل پانے والی حکومت کو نہ صرف آزاد کشمیر میں بنیادی ڈھانچے، سیاحت (Tourism)، تعلیمی اصلاحات اور صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کا چیلنج درپیش ہو گا بلکہ لائن آف کنٹرول (LoC) کے ملحقہ علاقوں میں مقیم شہریوں کو ریلیف فراہم کرنا بھی ایک ترجیح ہوگی۔
اس کے علاوہ مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بین الاقوامی سطح پر آواز بلند کرنا آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے بنیادی منصبی فرائض میں شامل ہے۔
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے واضح کیا ہے کہ تمام موصول ہونے والے فارم 45 اور 47 کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور آئینی مدت کے اندر حتمی و سرکاری نتائج کا باضابطہ اعلان کر دیا جائے گا۔
سیکیورٹی فورسز کی جانب سے فتح کے جلوسوں پر پابندی اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے دفعہ 144 کے نفاذ کی ہدایات پر سختی سے عمل درآمد کرایا جا رہا ہے۔





