سوات کبل دھماکہ خیبرپختونخوا کے سیاحتی شہر سوات میں ایک انتہائی افسوسناک اور دلخراش سانحے کے طور پر سامنے آیا ہے، جس نے ایک بار پھر ملکی سیکیورٹی صورتحال پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
حالیہ عرصے میں سوات اور ملحقہ علاقوں میں امن و امان کی فضا بحال ہو چکی تھی، تاہم اس تازہ واقعے نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔
سوات کے علاقے کبل میں واقع تھانے پر ہونے والے اس حملے کو دہشت گردی کی ایک بزدلانہ کارروائی قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد علاقے کا امن تباہ کرنا ہے۔
نجی ٹی وی چینلز اور موصول ہونے والی مستند اطلاعات کے مطابق، یہ افسوسناک واقعہ کبل پولیس اسٹیشن کے مرکزی گیٹ کے بالکل قریب پیش آیا۔
ڈی پی او سوات عمر گنڈاپور نے میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس سنگین واقعے میں 4 پولیس اہلکاروں سمیت مجموعی طور پر 9 افراد جام شہادت نوش کر گئے ہیں۔
اس کے علاوہ 18 سے زائد افراد، جن میں شہری اور پولیس جوان شامل ہیں، شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیے گئے ہیں۔
سوات کبل دھماکہ اور واقعے کی چشم دید تفصیلات
سوات کبل دھماکہ کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) مالاکنڈ سید فدا حسین کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کبل تھانے کے قریب کچھ فاصلے پر مقامی نوجوانوں کا ایک احتجاج بھی جاری تھا۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ احتجاج کا مقام دھماکے کی جگہ سے قدرے دور تھا، اور حملہ آور کا اصل نشانہ تھانہ اور حساس عمارتیں ہی تھیں۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق، ایک خودکش حملہ آور نے تھانہ کبل میں داخل ہونے کی مذموم کوشش کی۔
ڈیوٹی پر موجود بہادر اور فرض شناس پولیس اہلکاروں نے اسے مین گیٹ پر ہی روک لیا اور اندر داخل ہونے سے باز رکھا۔ جب حملہ آور کو اپنا منصوبہ ناکام ہوتا ہوا نظر آیا تو اس نے تھانے کے گیٹ پر ہی خود کو ایک زوردار دھماکے سے اڑا لیا۔
اس افسوسناک واقعے کے فوراً بعد ریسکیو اور امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ ترجمان ریسکیو 1122 بلال احمد فیضی کے مطابق، کبل میں دھماکے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں، میڈیکل اسٹاف اور درجنوں ایمبولینسز جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ اب تک 15 سے زائد زخمیوں کو ریسکیو 1122 کے عملے نے کبل اور سیدو شریف کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا ہے، جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور ڈاکٹروں کی اضافی ٹیمیں طلب کر لی گئی ہیں۔
اس واقعے کے فوراً بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں، پولیس، اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ شواہد اکٹھے کرنے کے لیے بم ڈسپوزل اسکواڈ اور فرانزک ٹیمیں بھی جائے وقوعہ پر کام کر رہی ہیں، جبکہ ملحقہ علاقوں میں سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
حکومتی سطح پر اس بزدلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی جا رہی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، اور سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور سمیت دیگر سیاسی و سماجی شخصیات نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
جماعت اسلامی کے رہنما حافظ نعیم الرحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سوات میں دہشتگردی ناقابل برداشت ہے اور حکومت کو چاہیے کہ وہ شہریوں کا تحفظ ہر صورت یقینی بنائے۔
عوامی حلقوں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دہشت گرد عناصر پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے مورال کو گرانا چاہتے ہیں، مگر فورسز کی بروقت کارروائی اور قربانیوں نے بڑے نقصان سے بچا لیا ہے۔
حکومت کی جانب سے شہداء کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعائیں کی جا رہی ہیں، اور عزم ظاہر کیا گیا ہے کہ اس واقعے میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔





