ڈیجیٹل زرعی مردم شماری کے نتائج اور اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد پاکستان کی زرعی پالیسی، غذائی تحفظ اور دیہی معیشت کی منصوبہ بندی میں ایک انقلابی موڑ آ گیا ہے۔
پاکستان بیورو آف شماریات (PBS) کی جانب سے جاری کردہ اس جامع رپورٹ نے ملک بھر میں زراعت، مویشی پالنے اور زرعی مشینری کے استعمال سے متعلق پہلی بار انتہائی شفاف اور حقائق پر مبنی ڈیجیٹل ڈیٹا فراہم کیا ہے۔
اس سے قبل ہونے والی روایتی کاغذی مردم شماریوں کے برعکس، اس جدید سروے کے ذریعے تمام صوبوں، بالخصوص پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے زرعی رقبے، کاشتکاری کے رجحانات اور پانی کی دستیابی کا حقیقی وقت (Real-time) میں جائزہ لیا گیا ہے۔
وفاقی وزارتِ منصوبہ بندی و ترقی اور پاکستان بیورو آف شماریات کے حکام کے مطابق یہ اقدام قومی معیشت کی پائیدار بحالی کے لیے انتہائی ضروری تھا۔
تازہ ترین اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ زراعت پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں تقریباً 24 فیصد کا بنیادی حصہ ڈالتی ہے جبکہ ملک کی 35.1 فیصد سے زائد فعال افرادی قوت کا روزگار براہ راست اسی شعبے اور اس سے وابستہ صنعتوں سے منسلک ہے۔
عالمی سطح پر آب و ہوا میں تبدیلی (Climate Change)، پانی کی کمی اور مون سون کی بارشوں سے پیدا ہونے والے سیلابی حالات کے پیش نظر اس بات کی شدید ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ کسانوں کو بلا تعطل بیج، کھاد، اور ڈائریکٹ فنانسنگ فراہم کرنے کے لیے قابلِ اعتماد ڈیٹا موجود ہو۔
روزنامہ جنگ اور ڈیلی پاکستان کی تازہ ترین زرعی رپورٹس کے مطابق، ملک کے مختلف حصوں میں اہم فصلوں بالخصوص گندم اور کپاس کی صورتحال کا جائزہ بھی اس ڈیٹا کی روشنی میں لیا جا رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں روئی اور کپاس کی مارکیٹوں میں فی من قیمتوں میں استحکام اور اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ ملتان اور ڈیرہ غازی خان جیسے اہم زرعی ڈویژنز میں کپاس کی کاشت کے اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ کاشتکاروں کو سرکاری نرخوں پر معیاری کھاد کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے محکمہ زراعت کی ٹیمیں متحرک ہیں۔
ڈیجیٹل زرعی مردم شماری، زرعی اصلاحات اور کسانوں کے لیے نئے اقدامات
ڈیجیٹل زرعی مردم شماری کے اس جدید فریم ورک سے نہ صرف وفاقی و صوبائی حکومتوں کو شواہد پر مبنی پالیسی سازی میں مدد ملے گی بلکہ کسانوں کے لیے جاری کردہ مختلف حکومتی سکیموں، جیسے کہ مفت سولر پینل، گرین ٹریکٹر پروگرام اور کسان کارڈز کی منصفانہ تقسیم بھی ممکن ہو سکے گی۔
زرعی ماہرین کا ماننا ہے کہ جی آئی ایس (GIS) میپنگ اور ٹیبلٹ بیسڈ ڈیٹا اکٹھا کرنے سے ان کسانوں کی بھی نشاندہی ہو سکی ہے جو دور دراز دیہی علاقوں میں بنیادی سہولیات سے محروم تھے۔
حکومتی حکام کے مطابق اس مردم شماری سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں اب ایسی حکمتِ عملی مرتب کی جا رہی ہے جس سے فی ایکڑ پیداوار (Yield per acre) میں اضافہ ممکن ہو سکے۔
جدید بائیو ٹیکنالوجی بیجوں کی کاشت، قطرہ قطرہ آبپاشی (Drip Irrigation)، اور ڈرون کے ذریعے جڑی بوٹی مار ادویات کے چھڑکاؤ کو فروغ دینے کے لیے نجی شعبے کے ساتھ مل کر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل قائم کیے جا رہے ہیں۔
اس کے علاوہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور اقوام متحدہ کے ڈائریکٹوریٹ برائے خوراک و زراعت (FAO) نے بھی پاکستان کے اس ڈیجیٹل سسٹمیٹک ماڈل کی تعریف کی ہے۔
فوڈ سیکیورٹی کو درپیش خطرات، عالمی سطح پر خام تیل اور ایندھن کے نرخوں میں اتار چڑھاؤ، اور زرعی ادویات کی لاگت کے اثرات کو کم کرنے کے لیے یہ اعداد و شمار ایک تحرک کا کام کریں گے۔
کسان تنظیموں نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان اصلاحات کے تحت چھوٹے کاشتکاروں کو آسان شرائط پر زرعی قرضے اور سستے ٹیوب ویل سولرائزیشن پیکیج فراہم کیے جائیں تاکہ ملک کو ایندھن کی درآمدات سے نجات مل سکے اور زراعت خود کفیل ہو سکے۔





