فٹ بال سے زیادہ تشویش کی بات
جب فٹ بال کی مختلف قوتیں اس کھیل کے مستقبل کے بارے میں ایک ویڈیو کانفرنس کے لیے رواں ہفتے آمنے سامنے آئیں تو اس ملاقات میں زیر بحث کیا آئے گا اس بارے میں کئی نجی پیغامات کا تبادلہ ہو رہا تھا۔ ان میں کئی کرونا وائرس کے بارے میں بھی تھے۔
’آپ کے ملک میں کیا حالات ہیں؟ آپ نے کیا سنا ہے؟ یہ کب ختم ہوگا؟‘
اصل میں اس کے علاوہ کسی اور پر توجہ ہی دینا مشکل ہے۔ کھلاڑی وہی ہیں۔ دن لہروں کی طرح گزر رہے ہی: معمول کے دورے اور کچھ تفریح حاصل کرنے کی کوشش، جن پر اچانک آگے کیا ہونے والا ہے اس بارے میں ناامیدی کی یلغار ہو جاتی ہے۔
ہم سب یہاں ہیں، سب کے سب ایک طرح۔
اس کھیل سے جڑے کئی جائز طور پر اپنے کلبوں کے معاشی مستقبل کے بارے میں تشویش میں مبتلا ہیں، اور پھر کرونا وائرس سے متعلق تشویش ارنسٹ ہیمنگ وے کی اس لائن کی طرح بڑھتی رہتی ہے کہ دیوالیہ پن، مرحلہ وار اور پھر اچانک۔
یہ مشرق میں کوئی دور کی تشویش کی طرح شروع ہوئی، جس نے آہستہ آہستہ باقی دنیا کو نگل لیا اس وقت تک جب تک ہم نے اپنا طرز زندگی مکمل طور پر تبدیل نہ کر لیا۔
یہ انتہائی ظالمانہ ہے کہ فٹ بال جس نے کسی دوسری صعنت کے مقابلے میں معیشت اور سیاحت سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا ہے۔ اور پھر اس وبا نے اس ڈھانچے کو تباہ کرنا شروع کر دیا۔
یہ بات کتنی قابل ذکر ہے کہ لیورپول ایک ہفتہ قبل ہی اٹلیٹکو میڈرڈ کا میزبان تھا جس کی وجہ سے کم از کم ایک ہزار افراد بحران سے دوچار سپین سے شمالی انگلینڈ آئے۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں پریمئیر لیگ نے اعلان کیا تھا کہ وہ میچ جاری رکھے گا جب میکل آرٹیٹا کے پازٹیو ٹیسٹ نے سب کچھ اڑا دیا۔
یہ ایک ایسی بات تھی جس نے آگے کیا کیا جائے پر زیادہ توجہ مرکوز کروا دی۔ بحران سے نمٹنے کا ہر پلان اور ہر ’حل‘ کو وائرس تہس نہس کر سکتا ہے۔ یویفا کے صدر الیساندر سیفرن نے آسان لیکن معنی خیز الفاظ میں کہا کہ ’اس کا انحصار ہم پر نہیں ہے۔‘
اس بیان نے کئی ضمنی بحثوں کو جنم دیا ہے کہ آخر ہمارے لیے کس بات کی اہمیت ہونی چاہیے، کیا ہمیں فٹ بال کے بارے میں سوچنا بھی چاہیے، کیا ہمیں پروا بھی ہونی چاہیے کہ فٹ بال کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔
جب ایف اے کے نئے سربراہ مارک بولینگم نے منگل کو صحافیوں کے ساتھ کانفرنس کال کی تو انہوں نے 18 منٹ میں چار مرتبہ کہا کہ ’دنیا میں فٹ بال کے علاوہ بھی اہم چیزیں ہیں۔‘
انہوں نے یہ بات یقینا اس کھیل کو مناسب تناظر میں رکھنے کی کوشش کی تھی لیکن اس سے انکار نہیں کہ سب کو معلوم ہے کہ ہمارے ذہنوں پر فٹبال کے علاوہ بڑی پریشانیاں حاوی ہیں۔
یہ دراصل ایسا کوئی ایسا شخص جس نے اپنا زاویہ کھو دیا ہو کہے گا کہ فٹ بال نے اپنی اہمیت کھو دی ہے۔