تحریر: محمد عثمان (سینئر معاشی تجزیہ کار)
پاکستان میں Business News Today کے مطابق، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں ملکی معیشت کو متحرک کرنے کے لیے شرح سود (Interest Rate) میں 200 بیسس پوائنٹس کی بڑی کمی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ کراچی میں مرکزی بینک کے گورنر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ افراطِ زر (Inflation) کی شرح سنگل ڈیجٹ میں آنے کے بعد یہ فیصلہ صنعت کاروں اور تاجروں کو سستی سرمایہ کاری کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، لاہور اور فیصل آباد سمیت ملک بھر کے بڑے چیمبرز آف کامرس نے مرکزی بینک کے اس اقدام کا بھرپور خیر مقدم کیا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ Latest News صنعتی پیداوار بڑھانے اور نئے کاروباری مواقع پیدا کرنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوگی، جس سے مقامی مینوفیکچرنگ سیکٹر کو ایک نیا حوصلہ ملے گا۔
شرح سود (Interest Rate in Pakistan) اور صنعتی ترقی
اسٹیٹ بینک کی جانب سے Interest Rate میں کمی کے بعد اب تجارتی بینکوں کے لیے قرضوں کی فراہمی آسان اور سستی ہو جائے گی۔ لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر کا کہنا ہے کہ “آج کی بڑی خبر” تاجر برادری کے لیے عید سے قبل ایک بہترین تحفہ ہے، جس سے مارکیٹ میں سرمائے کی گردش بڑھے گی۔
پاکستان میں Business سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے حکومت نے اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (SMEs) کے لیے بھی خصوصی کوٹہ مختص کیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت نوجوان کاروباری افراد کو آسان شرائط پر بلاسود یا انتہائی کم مارک اپ پر قرضے فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ اپنے نئے آئیڈیاز پر کام کر سکیں۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX Today) میں تیزی کا ریکارڈ
مرکزی بینک کے فیصلے کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX Today) میں زبردست تیزی دیکھی جا رہی ہے اور کے ایس ای 100 انڈیکس نے تاریخ کی نئی بلند ترین سطح کو چھو لیا ہے۔ کراچی اسٹاک مارکیٹ میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے جارحانہ خریداری دیکھی گئی، خاص طور پر سیمنٹ، ٹیکسٹائل اور آٹو موبائل سیکٹرز کے شیئرز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔
بروکرز کا کہنا ہے کہ معاشی استحکام اور شرح سود میں کمی کی وجہ سے انویسٹرز کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ اگر یہ معاشی پالیسیاں تسلسل کے ساتھ برقرار رہیں، تو مالیاتی سال 2026-27 کے آغاز تک پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ خطے کی بہترین مارکیٹ بن سکتی ہے۔
آئی ایم اف (IMF) پروگرام اور آئندہ وفاق بجٹ
وزارتِ خزانہ کے ذرائع سے موصول ہونے والی Trending News کے مطابق، حکومت آئی ایم ایف کے نئے قرض پروگرام کے تحت اصلاحات پر عملدرآمد جاری رکھے ہوئے ہے۔ آئندہ وفاقی بجٹ 2026-27 میں جہاں ایک طرف ٹیکس نیٹ بڑھانے پر توجہ دی جائے گی، وہیں دستاویزی معیشت (Documented Economy) کے لیے سخت اقدامات بھی متوقع ہیں۔
اسلام آباد میں معاشی ماہرین کی بیٹھک میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ معیشت کو طویل مدتی بنیادوں پر مستحکم کرنے کے لیے برآمدات (Exports) کا بڑھنا ناگزیر ہے۔ حکومت برآمدی صنعتوں کے لیے بجلی اور گیس کے نرخوں میں خصوصی رعایت دینے پر بھی غور کر رہی ہے۔
خلاصہ اور معاشی مستقبل
مجموعی طور پر، اسٹیٹ بینک کا حالیہ فیصلہ پاکستان کے کاروباری منظر نامے کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اب یہ نجی شعبے پر منحصر ہے کہ وہ اس سستی سرمایہ کاری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک میں پیداوار اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے تاکہ ملکی معیشت پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور دنیا بھر کی تازہ ترین خبروں سے باخبر رہنے کے لیے [یہاں کلک کریں]۔



