تازہ ترین

ڈریپ الرٹ جعلی ادویات

ڈریپ الرٹ جعلی ادویات: کینسر کی جعلی ادویات کی خریدو فروخت پر پابندی

ڈریپ الرٹ جعلی ادویات کا مقصد ملکی سطح پر غیر معیاری، غیر رجسٹرڈ اور مضرِ صحت ادویات کی روک تھام کو یقینی بنانا ہے تا کہ مریضوں کی زندگیوں کو درپیش خطرات سے بچایا جا سکے۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) نے صحت عامہ کے تحفظ کے پیشِ نظر ایک ہنگامی میڈیکل ڈیوائس اور ڈرگ الرٹ جاری کیا ہے، جس کے تحت کینسر کے علاج کے لیے استعمال ہونے والے مخصوص بین الاقوامی برانڈز کی جعل سازی اور جعلی انجیکشنز کی منڈیوں میں موجودگی کی نشاندہی کی گئی ہے۔

باضابطہ اعلامیے کے مطابق یہ جعلی ادویات نہ صرف مریضوں کے علاج پر منفی اثر ڈالتی ہیں بلکہ ان سے جان جانے کا شدید خطرہ بھی لاحق رہتا ہے۔

مستند قومی اخبارات اور نیوز پورٹلز کی رپورٹس کے مطابق، ڈریپ کی ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریز نے مختلف صوبوں بالخصوص پنجاب اور سندھ سے ادویات کے حاصل کردہ نمونوں کے تجزیے کے بعد اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مارکیٹ میں کینسر کی کچھ ایسی خپیں (Batches) گردش کر رہی ہیں جو اصل مینوفیکچرر کے معیار پر پوری نہیں اترتیں۔

ان ادویات کی پیکنگ اور لیبلنگ کو اس انداز میں تیار کیا گیا تھا کہ عام شہری اور فارماسسٹ کے لیے اصل اور نقل میں فرق کرنا انتہائی مشکل ہو چکا تھا۔

اتھارٹی نے تمام صوبائی ڈرگ انسپکٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہسپتالوں اور میڈیکل سٹورز کی ہنگامی چیکنگ کریں اور ان تمام بیچز کا اسٹاک فوراً ضبط کر کے قانونی کارروائی کریں۔

ڈریپ الرٹ جعلی ادویات، فارمیسی انسپکشن اور عوامی احتیاطی تدابیر

ڈریپ الرٹ جعلی ادویات پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے ہیلتھ کیئر ماہرین نے شہریوں اور فارمیسی مالکان کو سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ فارماسسٹس پر یہ لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ کینسر اور دیگر مہلک بیماریوں کی ادویات صرف لائسنس یافتہ ڈسٹری بیوٹرز اور کمپنی کے منظور شدہ وینڈرز سے ہی حاصل کریں۔

میڈیکل سٹورز پر خریدی گئی ادویات کا مکمل کیش میمو یا انوائس آن ریکارڈ رکھنا لازمی ہوگا تا کہ کسی بھی جعل سازی کی صورت میں اصل سپلائر کا سراغ لگایا جا سکے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کینسر جیسی حساس بیماری کے علاج میں چند ملی گرام غیر معیاری دوا بھی کسی مریض کے لیے زہر کا سبب بن سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: ذہنی صحت اور ڈیجیٹل ڈیوائسز: سوشل میڈیا کا انسان کی نفسیات پر اثر

اسی بنا پر حکومت کی جانب سے ایک سینٹرلائزڈ بارکوڈنگ اور ڈیجیٹل ٹریکنگ سسٹم متعارف کرانے کی تجویز پر بھی کام ہو رہا ہے جس کی مدد سے شہری اپنے سمارٹ فونز سے بارکوڈ سکین کر کے دوا کا اصل ہونا چیک کر سکیں گے۔

شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر تصدیق شدہ یا سستے داموں ملنے والی ادویات سے پرہیز کریں اور اگر کوئی مشکوک دوا نظر آئے تو اس کی اطلاع ڈریپ ہیلپ لائن پر دیں۔

جعلی ادویات ڈریپ الرٹ: فارماسسٹس کے لیے ضوابط اور سمارٹ فون بارکوڈنگ

جعلی ادویات ڈریپ الرٹ کے تحت میڈیکل سٹورز اور فارمیسی مالکان پر قانوناً یہ لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ کینسر، دل اور دیگر پیچیدہ امراض کی ادویات کی خرید صرف اور صرف لائسنس یافتہ ڈسٹری بیوٹرز اور ڈائریکٹ فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے منظور شدہ وینڈرز سے کریں۔

سپلائی چین کی شفافیت کے لیے ہر خرید و فروخت کا رجسٹرڈ کیش میمو یا آفیشل انوائس (Invoice) آن ریکارڈ رکھنا لازمی ہو گا تا کہ کسی بھی جعلی بیچ کی نشاندہی پر اصل سپلائر اور ہول سیلر تک فوراً پہنچا جا سکے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کینسر اور گائے نالوجیکل بیماریوں کی ادویات میں چند ملی گرام کا فرق بھی مریض کے لیے زہر کا کام کر سکتا ہے۔ اسی خطرناک صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت اور ڈریپ کی جانب سے ایک جدید سینٹرلائزڈ بارکوڈنگ اور ڈیجیٹل ٹریکنگ سسٹم (Track and Trace System) پر کام تیز کر دیا گیا ہے۔

اس سسٹم کے نفاذ کے بعد عام شہری اپنے سمارٹ فون سے دوا کے ڈبے پر موجود ۲ ڈی بارکوڈ (QR Code) کو اسکین کر کے یہ تصدیق کر سکیں گے کہ آیا یہ دوا اصلی ہے اور ڈریپ سے منظور شدہ ہے یا نہیں۔

اہم خبریں