تازہ ترین

پاکستان اور قازقستان تعلیمی معاہدہ

پاکستان اور قازقستان تعلیمی معاہدہ: اعلٰی تعلیم اور سائنسی تحقیق میں تعاون کا نیا باب

پاکستان اور قازقستان تعلیمی معاہدہ دونوں برادر ممالک کے درمیانی دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور تعلیمی شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک اہم پیشرفت ہے۔ وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور قازقستان کی معروف الفارابی قازق نیشنل یونیورسٹی کے درمیان ایک تاریخی مفاہمت نامے (MoC) پر دستخط کیے گئے ہیں، جس کے تحت یہ معاہدہ باضابطہ طور پر عمل میں آ گیا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کی یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کے درمیان باہمی تعاون، سائنس و ٹیکنالوجی کی منتقلی اور طلباء و اساتذہ کے تبادلے کو ایک نیا رخ دینا ہے۔

اس معاہدے کا سب سے اہم پہلو الفارابی قازق نیشنل یونیورسٹی میں “قازقستان-پاکستان ریسرچ سینٹر” کا قیام ہے۔ یہ مشترکہ تحقیقی مرکز دونوں ممالک کی بہترین یونیورسٹیوں کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم ثابت ہوگا جہاں دونوں ممالک کے محققین، سائنسدان اور طلباء مل کر خطے کو درپیش چیلنجز کے حل اور نئی سائنسی ایجادات پر کام کریں گے۔ اس معاہدے کی حتمی منظوری وفاقی وزیر مملکت برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر اور الفارابی قازق نیشنل یونیورسٹی کے ریکٹر پروفیسر جان سیت توئم بائیف کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقات میں دی گئی۔

سائنسی تحقیق اور تکنیکی جدت پر خصوصی توجہ

اس تعلیمی شراکت داری کے تحت مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence)، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سائبر سیکیورٹی اور ڈیجیٹل انویشن جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں پر خاص توجہ مرکوز کی جائے گی۔ پاکستانی وفد نے روشنی ڈالی کہ پاکستان کی یونیورسٹیوں نے حال ہی میں آئی ٹی اور اے آئی کے میدان میں شاندار پیشرفت کی ہے، جس کے تجربات سے قازقستان کے تعلیمی ادارے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اسی طرح قازقستان کی تکنیکی مہارت اور سائنسی انفراسٹرکچر سے پاکستانی محققین کو جدید سائنسی علوم سیکھنے کے وسیع مواقع میسر آئیں گے۔

اس منصوبے کے تحت دونوں ممالک کی یونیورسٹیوں کے درمیان جوائنٹ ڈگری پروگرامز اور دوہری ڈگری (Dual Degree) کا طریقہ کار بھی وضع کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے پاکستانی طلباء کو وسطی ایشیا کے تعلیمی اداروں میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع ملیں گے، جبکہ قازقستان کے طلباء و محققین بھی پاکستان کے نامور تعلیمی اداروں میں آئیں گے، جس سے نہ صرف تعلیمی معیار بہتر ہوگا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان عوام سے عوام کے روابط (People-to-People Contacts) میں بھی اضافہ ہوگا۔

روڈ میپ کی تیاری اور مستقبل کے اہداف

پاکستان اور قازقستان کے تعلیمی حکام نے اس معاہدے کے طے شدہ اہداف کو مرحلہ وار اور موثر انداز میں پورا کرنے کے لیے ایک جامع “عملدرآمد روڈ میپ” (Implementation Roadmap) تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس روڈ میپ کے تحت ہر سال دونوں ممالک کی یونیورسٹیوں کے مابین اسکالرشپس کا تبادلہ، مشترکہ عالمی کانفرنسز کا انعقاد اور تحقیقی مقالوں کی اشاعت کو یقینی بنایا جائے گا۔

تعلیمی ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان اور قازقستان تعلیمی معاہدہ نہ صرف تعلیمی سفارت کاری (Educational Diplomacy) میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، بلکہ یہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ پاکستان کے تزویراتی اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی ایک کلیدی کردار ادا کرے گا۔ دونوں ممالک کے مشترکہ عزم اور مسلسل تعاون سے تعلیمی و سائنسی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے جو آنے والے سالوں میں خطے کی معاشی و علمی پیشرفت کا ضامن بنے گا۔

اہم خبریں