تازہ ترین

ہیپاٹائٹس سے بچاؤ

ہیپاٹائٹس سے بچاؤ کا عالمی دن: پاکستان میں مفت سکریننگ اور علاج کا آغاز

ہیپاٹائٹس سے بچاؤ کا عالمی دن پاکستان بھر میں قومی جذبے، بیداریِ شعور اور بیماری کے مکمل خاتمے کے عزم کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد عوام الناس میں جگر کی اس موذی بیماری، اس کی مختلف اقسام، علامات اور وقت پر تشخیص کی اہمیت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔ اس سال کا عالمی تھیم بیماری کے بارے میں بروقت معلومات اور ہر شہری تک معیاری علاج کی آسان رسائی کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے تاکہ مستقبل میں ہیپاٹائٹس سے ہونے والی معذوری اور اموات کو مکمل طور پر روکا جا سکے۔

اس اہم موقع پر اپنے خصوصی پیغامات میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک سے ہیپاٹائٹس کے مکمل خاتمے کے لیے قومی عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے پیغامات میں کہا کہ حکومت تمام شہریوں کو صحت کی بنیادی اور جدید سہولیات فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بکارِ لائے گی۔ صدر اور وزیراعظم نے عوام پر زور دیا کہ وہ بیماری کی ابتدائی تشخیص کے لیے سکریننگ کروائیں اور طبی ماہرین کی جانب سے بتائی گئی احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔

وزارتِ صحت نے وفاقی اور صوبائی سطح پر ہیپاٹائٹس کے خلاف ایک جامع اور مربوط حکمتِ عملی ترتیب دی ہے تاکہ ملک کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو بھی سکریننگ اور علاج کی مفت سہولیات میسر آ سکیں۔

  • مفت سکریننگ اور تشخیص: وفاقی و صوبائی وزارتِ صحت کے زیرِ اہتمام ملک بھر کے تمام اضلاع اور بنیادی صحت کے مراکز میں مفت سکریننگ کیمپس قائم کر دیے گئے ہیں جہاں شہریوں کا مفت بلڈ ٹیسٹ، تشخیص اور ابتدائی معائنہ کیا جا رہا ہے۔
  • ایمرجنسی طبی سہولیات کا قیام: اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) ہسپتال میں 200 بستروں پر مشتمل جدید ایمرجنسی سینٹر کے ذریعے شہریوں کو فوری، معیاری اور مفت علاج فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ پیچیدہ کیسز کو بلا تاخیر ڈیل کیا جا سکے۔

ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کی وجوہات اور احتیاطی تدابیر

طبی ماہرین کے مطابق ہیپاٹائٹس بی (Hepatitis B) اور ہیپاٹائٹس سی (Hepatitis C) جگر کے خطرناک ترین وائرسز میں شمار ہوتے ہیں جنہیں اکثر “خاموش قاتل” کہا جاتا ہے، کیونکہ ان کی علامات ابتدائی مراحل میں واضح طور پر ظاہر نہیں ہوتیں۔ یہ وائرس خون اور جسمانی سیال (Body Fluids) کے ذریعے ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتے ہیں۔

اسی لیے ہیپاٹائٹس سے بچاؤ کا عالمی دن ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ شہری غیر تصدیق شدہ یا آلودہ خون کی منتقلی، استعمال شدہ سرنجز اور شیو کے لیے غیر معیاری یا پرانے سامان سے سخت پرہیز کریں۔ ڈاکٹروں کے مطابق ہیپاٹائٹس اے اور ای زیادہ تر آلودہ پانی اور غیر صحتمندانہ خوراک کے استعمال سے پھیلتے ہیں، لہٰذا ابلا ہوا پانی پینا اور کھانے پینے کی اشیاء کی صفائی کا خاص خیال رکھنا ناگزیر ہے۔

وقت پر تشخیص اور مفت علاج سے استفادہ

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں سکریننگ کروانے سے ہیپاٹائٹس پر 90 فیصد سے زائد قابو پایا جا سکتا ہے۔ اب جدید طبی تحقیق کے باعث ہیپاٹائٹس سی کا مکمل علاج ممکن ہو چکا ہے اور اس کی ادویات نہایت موثر ثابت ہو رہی ہیں۔ حکومتِ پاکستان کی جانب سے تمام بڑے سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات اور سکریننگ فراہم کی جا رہی ہے، اس لیے شہریوں کو چاہیے کہ وہ بلا خوف و جھجھک اپنے اور اپنے اہل خانہ کے ٹیسٹ کروائیں اور حکومت کی فراہم کردہ ان سہولیات سے پورا فائدہ اٹھائیں تاکہ ایک صحت مند اور ہیپاٹائٹس سے پاک معاشرہ قائم کیا جا سکے۔

اہم خبریں