علاقائی خبریں پنجاب: مون سون بارشوں سے زرعی شعبہ متاثر، پی ڈی ایم اے کا اضلاع میں ایمرجنسی الرٹ
اہم نکات (Key Highlights):
- بارشوں کا نیا اسپیل: پنجاب کے جنوبی اور وسطی اضلاع میں غیر معمولی مون سون بارشوں کا سلسلہ تیز ہو گیا۔
- رود کوہیوں میں طغیانی: کوہِ سلیمان اور ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی نالوں میں سیلابی صورتحال، رابطہ سڑکیں زیرِ آب۔
- زراعت پر اثرات: کپاس اور سبزیوں کی فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ، محکمہ زراعت کی جانب سے کاشتکاروں کے لیے ہنگامی ایڈوائزری جاری۔
- انتظامی اقدامات: پی ڈی ایم اے (PDMA) اور ریسکیو 1122 صوبہ بھر میں ہائی الرٹ، اضلاع میں کنٹرول رومز قائم۔
لاہور / ملتان (خاص رپورٹ):
صوبہ پنجاب کے مختلف خطوں میں حالیہ مون سون کے طاقتور اسپیل نے جہاں موسم خوشگوار بنایا ہے، وہیں دیہی اور شہری علاقوں میں معاشی و زرعی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ پنجاب کی علاقائی خبریں بتاتی ہیں کہ بالخصوص جنوبی اور وسطی پنجاب کے اضلاع میں موسلا دھار بارشوں کے بعد ندی نالوں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو چکی ہے، جبکہ میدانی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔
پی ڈی ایم اے (PDMA) پنجاب اور محکمہ موسمیات کے مطابق، آنے والے چند ایام میں مون سون کا یہ سلسلہ برقرار رہنے کا امکان ہے۔ صوبائی انتظامیہ نے صورتحال کے پیش نظر تمام ڈپٹی کمشنرز اور ریسکیو اداروں کو چوبیس گھنٹے متحرک رہنے کا حکم دے دیا ہے۔
جنوبی پنجاب میں رود کوہیوں اور قدرتی نالوں کی صورتحال
جنوبی پنجاب کے بالائی اور پہاڑی علاقوں، بالخصوص کوہِ سلیمان کے دامن میں واقع اضلاع ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور جامپور میں بارشوں کے بعد رود کوہیوں (پہاڑی نالوں) میں درمیانے سے اونچے درجے کی طغیانی دیکھی جا رہی ہے۔
مقامی آبادی کے مطابق، پہاڑی سلسلہ سے آنے والے سيلابی ریلے دیہی علاقوں کی طرف بڑھ رہے ہیں جس کے باعث متعدد رابطہ پل اور کچی سڑکیں بہہ گئی ہیں۔ اس صورتحال نے بستیوں کا باہمی رابطہ منقطع کر دیا ہے، جبکہ مقامی انتظامیہ نے حفاظتی تدابیر کے طور پر نچلی آبادیوں کو فوری محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
محکمہ زراعت کی ہدایت: کپاس اور سبزیوں کی فصلوں کو خطرہ
پنجاب کا جنوبی خطہ ملک کی زرعی پیداوار، بالخصوص کپاس اور گندم کا گڑھ مانا جاتا ہے۔ بارش کے مسلسل پانی جمع رہنے کی وجہ سے زرعی ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
محکمہ زراعت پنجاب نے کاشتکاروں کے لیے ایک ہنگامی ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کپاس اور مختلف قسم کی سبزیاں پانی کے کھڑے رہنے سے سخت متاثر ہو سکتی ہیں۔ اگر 48 گھنٹوں سے زائد وقت تک پانی کپاس کے کھیتوں میں کھڑا رہا تو جڑوں کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
کسانوں کے لیے اہم تدابیر:
- اضافی پانی کی نکاسی: بارش کے اضافی پانی کو کپاس اور سبزیوں کے کھیتوں سے نکال کر دھان، کماد یا چارے کے کھیتوں میں منتقل کریں۔
- ڈرینیج نالیاں: جن کھیتوں میں پانی کھڑا ہو وہاں فوری طور پر نکاسی کے لیے عارضی نالیاں اور خندقیں کھودی جائیں۔
- پیسٹ کنٹرول: بارش کے بعد نمی میں اضافے سے کیڑوں اور جڑی بوٹیوں کا حملہ بڑھ سکتا ہے، جس کے لیے زرعی ماہرین سے مشاورت لازمی کریں۔
ضلعی انتظامیہ کی صورتحال اور متاثرہ علاقوں کا جائزہ
پنجاب کے اہم اضلاع کی موجودہ صورتحال اور انتظامی اقدامات کا ایک خاکہ ذیل کے جدول میں پیش کیا گیا ہے:
| ضلع / علاقہ | موجودہ صورتحال | متاثرہ شعبے | انتظامی و امدادی اقدامات |
| ڈیرہ غازی خان و راجن پور | رود کوہیوں میں طغیانی، سڑکیں زیرِ آب | سڑکیں، کچے مکانات، کپاس کی فصل | امدادی کیمپ قائم، ریسکیو 1122 بوٹس تعینات |
| سیالکوٹ و گوجرانوالہ | ندی نالوں میں طغیانی، اربن فلڈنگ | مقامی ٹرانسپورٹ، ڈرینیج سسٹم | واٹر ڈی واٹرنگ سیٹس چالو، نالوں کی صفائی |
| ملتان و بہاولپور | تیز ہوائیں اور درمیانی بارش | زرعی رقبا، برقی نظام | لیسکو/میپکو کی ہنگامی ٹیمیں الرٹ |
پی ڈی ایم اے اور ریسکیو 1122 کے اقدامات
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق تمام متاثرہ علاقوں میں ریلیف کیمپ اور میڈیکل اسپاٹس فعال کر دیے گئے ہیں۔ ایمرجنسی سروسز ریسکیو 1122 کی تیموں کو کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رکھا گیا ہے۔
صوبائی حکام نے شہریوں اور مسافروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بارش کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور ندی نالوں، نچلے علاقوں اور برقی کھمبوں کے قریب جانے سے پرہیز کریں۔ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 یا ریسکیو 1122 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔




