تازہ ترین

پاکستان میں گندم کی شدید قلت

پاکستان میں گندم کی شدید قلت: صوبوں نے وفاق سے 22 لاکھ ٹن گندم مانگ لی

آٹے کا بحران: صوبوں کا وفاقی حکومت سے فوری گندم کی فراہمی کا تقاضا

خبروں کے مطابق پاکستان میں گندم کی شدید قلت اور آٹے کی روز بروز بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے چاروں صوبائی حکومتوں نے وفاق سے ایمرجنسی بنیادوں پر مجموعی طور پر 22 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم فراہم کرنے کی درخواست کر دی ہے۔ اس سنگین صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین کی زیرِ صدارت وفاقی ویٹ بورڈ (Federal Wheat Board) کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس کے دوران وفاقی حکومت نے ابتدائی طور پر ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (TCP) کے ذریعے 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم بیرونِ ملک سے درآمد کرنے کا بڑا فیصلہ کیا ہے۔

قیمتوں میں تاریخی اضافہ اور صوبوں کا مطلوبہ کوٹہ

پاکستان بیورو آف شماریات (PBS) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ملک میں سرکاری سطح پر آٹے کی اوسط قیمت میں ایک سال کے اندر 74 فیصد کا تاریخی اضافہ ہوا ہے، جس سے آٹا 129 روپے فی کلوگرام تک پہنچ چکا ہے جبکہ پشاور سمیت بعض شہروں میں آٹا 150 روپے فی کلوگرام کی بلند ترین سطح پر فروخت ہو رہا ہے۔

اس پیش رفت کے پیشِ نظر مختلف صوبوں کی جانب سے گندم کے درج ذیل مطالبات سامنے آئے ہیں:

  • پنجاب: 10 لاکھ میٹرک ٹن (جسے پاسکو ذخائر اور درآمدی گندم سے پورا کیا جائے گا)
  • سندھ: 7 لاکھ 20 ہزار میٹرک ٹن (جس میں سے 5 لاکھ ٹن درآمدی اور 2.2 لاکھ ٹن پاسکو سے لی جائے گی)
  • خیبر پختونخوا: 4 لاکھ 25 ہزار میٹرک ٹن
  • بلوچستان: 57 ہزار 500 میٹرک ٹن

پاکستان میں گندم کی شدید قلت: ادائیگی کا طریقہ کار اور پرائیویٹ سیکٹر پر پابندی

ویٹ بورڈ کے اجلاس میں طے پایا کہ درآمد کی جانے والی گندم کی ادائیگی کے لیے صوبائی حکومتیں بیک ٹو بیک ایل سی (Letter of Credit) جاری کریں گی۔ اگر کسی صوبے کی جانب سے ادائیگی میں تاخیر یا کمی ہوئی تو وہ رقم این ایف سی (NFC) ایوارڈ میں اس صوبے کے حصے سے کاٹ لی جائے گی۔

دوسری جانب نجی شعبے کے نمائندوں کی جانب سے پرائیویٹ سطح پر گندم درآمد کرنے اور صوبائی حدود میں اس کی نقل و حمل پر لگی پابندیاں ختم کرنے کی تجویز دی گئی تھی، جسے ویٹ بورڈ نے مسترد کر دیا۔ بورڈ نے واضح کیا کہ پاکستان میں گندم کی شدید قلت کو پورا کرنے کا عمل صرف ٹی سی پی (TCP) کی سرکاری خریدی گئی گندم سے ہی ممکن بنایا جائے گا۔

شفاف بولی اور اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) کی منظوری

گندم کی شفاف خریداری کو یقینی بنانے کے لیے یہ عمل مسابقتی بولی (Competitive Bidding) کے ذریعے مکمل کیا جائے گا، اور تمام صوبائی نمائندوں کو ٹیکنیکل اور پرچیز کمیٹیوں میں شامل کیا جائے گا۔

وفاقی وزارتِ غذائی تحفظ اس مالیاتی و درآمدی منصوبے کو حتمی شکل دینے کے بعد جلد از جلد کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) سے منظوری حاصل کرے گی، جس کے فوراً بعد گندم کی درآمد کا باقاعدہ آغاز کر دیا جائے گا۔

اہم خبریں