اسلام آباد میں کامیابی کے ساتھ مکمل ہونے والے پاک ایران دوطرفہ تجارتی مذاکرات کے دسویں سیشن (JTC) میں دونوں پڑوسی ممالک نے اقتصادی تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے اور باہمی تجارت کا حجم 10 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔
پاک و ہند اور مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال کے تناظر میں ہونے والی ان اعلیٰ سطحی ملاقاتوں اور سائن شدہ یادداشتوں نے دونوں برادر ممالک کے درمیان طویل المدتی اقتصادی شراکت داری کا نیا فریم ورک مرتب کر دیا ہے۔
پاک ایران دوطرفہ تجارتی مذاکرات کے دوران اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اور سفارتی یکجہتی
دورے کے دوران ایرانی وزیر صنعت، کان کنی و تجارت سید محمد اتابک نے ایک 6 رکنی اعلیٰ سطح وفد کی قیادت کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے وزیراعظم ہاؤس میں اہم ملاقات کی۔
اس سے قبل دونوں ممالک کے وزرائے تجارت، رانا تنویر حسین، جام کمال خان، اور دیگر اعلیٰ حکام کے مابین 3 روز تک تکنیکی مذاکرات کے مختلف دور مکمل ہوئے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ اقتصادی روابط کو پائیدار شراکت داری میں بدلنے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے اپنی حالیہ بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی قیادت کا متفقہ ہدف 10 ارب ڈالر کی تجارت کا حصول ہے، جس پر فوری اور عملی اقدامات کا آغاز ہو چکا ہے۔
سید محمد اتابک (ایرانی وزیر صنعت و تجارت):
“پاکستان، ایران کا دیرینہ اسٹریٹجک اور تجارتی شریک ہے۔ ہم دونوں برادر ممالک کے عوام کی خوشحالی کے لیے سرحدی مارکیٹوں، لاجسٹکس سسٹمز اور آزاد تجارتی معاہدے (FTA) کی جلد سے جلد حتمی منظوری کے خواہاں ہیں۔”
پاک ایران دوطرفہ تجارتی مذاکرات میں سرحدی انفراسٹرکچر اور 24/7 بارڈر آپریشنز پر اتفاق
خبر رساں اداروں اور تمام اہم قومی اخبارات کی رپورٹس کے مطابق، ان مذاکرات میں سرحدی انفراسٹرکچر کی بہتری اور مال بردار گاڑیوں کی رکاوٹیں دور کرنے پر سب سے زیادہ زور دیا گیا۔ دونوں جانب سے درج ذیل اہم اقدامات پر فوری اتفاق کیا گیا:
سرحدی گزرگاہوں کی 24 گھنٹے فعالی: تفتان، گبد رمدان، اور دیگر مشترکہ بارڈر پوائنٹس پر تجارتی ٹریفک اور کارگو کی آمد و رفت کے لیے سرحدی دروازے 24/7 کھلے رکھے جائیں گے تاکہ خوراک اور دیگر اشیاء کی منتقلی بلا تاخیر ممکن ہو سکے۔
کسٹمز اور الیکٹرانک ڈیٹا سسٹم: کسٹمز کلیئرنس کے طریقہ کار کو آسان بنانے کے لیے الیکٹرانک ڈیٹا انٹرچینج (EDI) سسٹم کا نفاذ کیا جا رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کی کسٹمز اتھارٹیز ریئل ٹائم میں دستاویزات کا تبادلہ کر سکیں گی۔
بارٹر ٹریڈ (مبادلہ باہمی) اور بینکاری مسائل کا حل: عالمی مالیاتی پابندیوں کے خدشات اور بینکاری طریقہ کار کی رکاوٹوں کے پیش نظر، بارٹر ٹریڈ کے نظام کو وسعت دینے کی منظوری دی گئی ہے۔
اس کے تحت پاکستان اپنی زراعت اور ٹیکسٹائل کی مصنوعات ایران کو بھیجے گا جبکہ ایران سے توانائی اور پیٹرو کیمیکلز فراہم کیے جائیں گے۔
مشترکہ بارڈر مارکیٹس: کوہک بارڈر مارکیٹ کو فعال بنانے اور مقامی سرحدی آبادی کے روزگار میں اضافے کے لیے جوائنٹ مینجمنٹ کمیٹیاں قائم کر دی گئی ہیں۔
پاک ایران دوطرفہ تجارتی مذاکرات کے تحت آزاد تجارتی معاہدہ (FTA)
مذاکرات کی سب سے اہم پیش رفت آزاد تجارتی معاہدے (Free Trade Agreement – FTA) پر اہم سمجھوتہ ہے۔ پاکستان کے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور ایرانی وزیر سید محمد اتابک نے تصدیق کی کہ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے ٹیکنیکل ڈرافٹ، پروڈکٹ لسٹس اور ٹیرف میں کمی کی شرائط کا جائزہ مکمل کر لیا گیا ہے-
اس معاہدے کی حتمی توثیق جلد ہی کر دی جائے گی۔ اس معاہدے سے دونوں ممالک کی نجی صنعتوں (Private Sector) کے لیے کسٹمز ڈیوٹیز میں نمایاں رعایت ممکن ہو سکے گی۔
پاک ایران دوطرفہ تجارتی مذاکرات: کان کنی، توانائی اور زرعی شعبہ جات میں تعاون
دوطرفہ مذاکرات میں روایتی تجارت سے ہٹ کر نئے تکنیکی اور صنعتی شعبوں میں شراکت داری پر بھی تفصیل سے بات چیت ہوئی:
معدنیات و کان کنی (Mining Sector): دونوں ممالک نے قیمتی اور نایاب پتھروں (Precious Stones) کی پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن اور کان کنی کی جدید ترین ٹیکنالوجی کی منتقلی میں مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا۔
زرعی و غذائی اجناس: پاکستان کی طرف سے چاول، فروٹ (خصوصاً آم اور مالٹا)، اور گوشت کی برآمدات کو ایرانی مارکیٹ میں آسان رسائی دی جائے گی، جبکہ ایران سے سیب، زیتون اور دیگر غذائی اشیاء کی پاکستان کو ترسیل آسان بنائی جائے گی۔
سی پورٹ و لاجسٹکس کنیکٹیویٹی: دونوں ممالک نے کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں سے ایران کے راستے وسطی ایشیائی ممالک تک راہداری تجارت کی سہولیات دینے اور ریلوے کنیکٹیویٹی کو مزید مستحکم کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا۔




