پاکستان شوبز انڈسٹری کی نامور اداکارہ و فلمساز روبینہ اشرف نے زچگی کے بعد خواتین کو درپیش نفسیاتی مسائل اور ’پوسٹ پارٹم ڈیپریشن‘ (Postpartum Depression) پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیوی کو ڈپریشن سے بچانے کیلئے شوہر محبت اور وقت دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بچے کی پیدائش کا مرحلہ عورت کے لیے جسمانی اور جذباتی طور پر انتہائی نازک ہوتا ہے، جہاں اسے سب سے زیادہ اپنوں کی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔
زچگی کے بعد ذہنی صحت پر معاشرتی رویے
نجی ٹی وی کے مارننگ شو ’گڈ مارننگ پاکستان‘ میں بطور مہمان گفتگو کرتے ہوئے روبینہ اشرف نے خواتین کی ذہنی صحت کے موضوع پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہمارے معاشرے میں حمل اور بچے کی پیدائش کے بعد پیدا ہونے والی پیچیدہ ذہنی صورتحال کو گبپھیرتا سے نہیں لیا جاتا تھا اور یہ فرض کر لیا جاتا تھا کہ بچے کی دیکھ بھال اور جنم دینا محض عورت کی ذمہ داری ہے، خواہ وہ کس قدر سخت ذہنی و جسمانی اذیت سے گزر رہی ہو۔
دورانِ حمل جسمانی تبدیلیاں اور ذہنی دباؤ
اداکارہ نے واضح کیا کہ حمل کے دوران عورت کی جلد، جسمانی ساخت اور مجموعی صحت میں شدید اور بڑی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ ان تبدیلیوں کی وجہ سے وہ خوشی کا احساس رکھنے کے ساتھ ساتھ شدید بے چینی، گھبراہٹ اور ذہنی دباؤ کا شکار بھی ہو سکتی ہے۔
اگر اس دورانیے میں خاتون کی صحیح دیکھ بھال اور تیمارداری نہ کی جائے تو وہ شدید اور دائمی ڈپریشن کا شکار ہو سکتی ہے۔
شوہر کے تعاون اور محبت کی اہمیت
روبینہ اشرف نے زور دیا کہ حمل کے آغاز سے لے کر بچے کی پیدائش کے بعد تک شوہر کی محبت، ہمدردی اور تعاون عورت کی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہوتا ہے۔
زچگی کے بعد متعدد نئی ذمہ داریوں کو ایک ساتھ نبھانا کسی بھی خاتون کے لیے تنہا ممکن نہیں ہوتا۔ اسی لیے شوہر کو چاہیے کہ وہ اپنی شریکِ حیات کو وقت دیں، اس کا ساتھ نبھائیں اور اس نازک مرحلے میں اس کا مکمل خیال رکھیں۔




