تازہ ترین

تلاش کریں

حالیہ پوسٹس

پاکستان میں لاکھوں طلبہ کے لیے پرائم منسٹر ڈیجیٹل اسکالرشپ

کیٹگری

کیا ایران مستقبل کا فاتح ہے ؟ امریکہ ایران مذاکرات کے ممکنہ پانچ نکات

کیا ایران مستقبل کا فاتح ہے ؟

کیا ایران مستقبل کا فاتح ہے ؟
امریکہ ایران مذاکرات کے ممکنہ پانچ نکات

خلیج عرب میں کشیدگی اکثر اچانک سامنے آتی ہے اور بعض اوقات اس سے بھی زیادہ تیزی سے ختم ہو جاتی ہے۔

واضح نظر آ رہا ہے کہ خلیجی بحران ابھی ختم نہیں ہوا، بلکہ معاملات اسی بنیاد پر آگے بڑھے ہیںجو

ایران نے شروع سے قائم کی تھی ۔

ابھی تک ایران امریکہ معاہدے کی تفصیلات کا باضابطہ اعلان نہیں ہوا، لیکن بین الاقوامی امور کے ماہرین کی نظر میں ممکنہ معاہدے میں درج ذیل نکات کی توقع کی جا رہی ہے –

  1. فوری جنگ بندی۔
  2. آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا۔
  3. دو ماہ کی جنگ بندی، جو اگست کے اختتام تک جاری رہے گی۔
  4. ایران کے منجمد اثاثوں کی مرحلہ وار واپسی۔
  5. ایرانی افزودہ یورینیم کے معاملے پر مذاکرات کا آغاز۔

اگر معاہدہ واقعی ان ہی حدود کے اندر طے پاتا ہے تو اسے ایران کے لئے برتری تصور کیا جائے گا ، کیونکہ اس کی حکمت عملی شروع سے یہی تھی کہ مذاکرات کو اتنا طول دیا جائے کہ وہ امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات اور اسرائیل کے سیاسی حالات پر اثر انداز ہو جائیں۔

ان انتخابات کے نتائج اور ان کے اثرات امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی عوامی مقبولیت پر بھی پڑ سکتے ہیں، جس سے ایران کو مذاکراتی میدان میں مزید فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔
اگر معاملات انہی پانچ نکات کے مطابق طے پاتے ہیں جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے تو ” ایران فاتح ہوگا۔”

اگر معاہدہ واقعی انہی متوقع نکات کے مطابق ہوتا ہے جن کی تفصیلات ابھی تک عوام کے سامنے نہیں آئیں، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایران ان مطالبات سے بچ نکلا جنہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے آغاز میں بنیادی اہداف کے طور پر پیش کیا تھا، یعنی

ایرانی نظام کا خاتمہ۔
یورینیم امریکہ کے حوالے کرنا۔
میزائل پروگرام کو تباہ کرنا۔
حزب اللہ کی حمایت بند کرنا۔

اب تک جو کچھ سامنے آ رہا ہے، اس سے ایسا نہیں لگتا کہ ان میں سے ایک بھی شرط پوری ہوئی ہو۔ بلکہ بظاہر یہ معاہدہ ایران کی پوزیشن کو مزید مضبوط کرتا ہے، کیونکہ اس کے تحت تقریباً 90 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے واپس کیے جا سکتے ہیں، اس کے علاوہ تیل کی وہ رقوم بھی جن کے بارے میں ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ انہیں ایران کی رضامندی کے بغیر روک لیا گیا تھا۔ ساتھ ہی خطے میں اثر و رسوخ کی تقسیم اور دونوں فریقوں کے مفادات کے حوالے سے بھی بات چیت کا امکان موجود ہے۔

کچھ لوگ اس تجزیے کو ایران کی حمایت سمجھتے ہیں، کچھ اسے زمینی حقائق پر مبنی تجزیہ قرار دیتے ہیں،
اگر معاملہ اس حد تک طے ہوا تو ایران فاتح ہوگا۔

اگر بعد میں سامنے آنے والی تفصیلات تجزیہ نگاروں کے اندازوں کے برعکس ثابت ہوئے اور یہ واضح ہوا کہ ایران نے اپنی بنیادی پوزیشن سے پسپائی اختیار کی یا اس کی شرائط تسلیم نہیں ہوئیں، تو پھر فاتح ٹرمپ کو ہی ماننا پڑے گا۔

اہم خبریں

Education News Today

پاکستان میں لاکھوں طلبہ کے لیے پرائم منسٹر ڈیجیٹل اسکالرشپ اسکیم کا آغاز، ہائر ایجوکیشن کمیشن نے پورٹل کھول دیا تحریر: ڈاکٹر اسد محمود (سینئر

مزید پڑھیں