پاکستان میں معاشی تحرک: پالیسی ریٹ میں تاریخی کمی اور صنعتی پیشرفت
اسٹیٹ بینک کی شرح سود میں مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کی جانب سے نمایاں کمی کے تاریخی فیصلے کے بعد قومی سطح پر تجارتی، صنعتی اور معاشی سرگرمیوں میں ایک نیا اور مثبت تحرک دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مرکزی بینک کے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق افراط زر (مجموعی مہنگائی) کی شرح میں مسلسل گراوٹ، بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعاون، اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں بہتری کے مثبت اشاریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی ریٹ کو نیچے لایا گیا ہے۔ اس اہم معاشی پیشرفت سے ملکی تاریخ میں پہلی بار اتنے مختصر عرصے میں شرح سود میں اتنا بڑا اور فوری ریلیف دیکھنے کو ملا ہے، جس سے کاروبار کے حجم میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔
حکومتی معاشی ٹیم اور وزارتِ خزانہ کے حکام کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد ملک میں نجی شعبے (Private Sector) کے لیے بینکوں سے قرضوں کی فراہمی کو آسان، سستا اور ممکن بنانا ہے۔ طویل عرصے سے ریکارڈ حد تک بلند شرح سود کے باعث ملکی انڈسٹری، ٹیکسٹائل سیکٹر، اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاربار (SMEs) شدید جمود کا شکار تھے۔ سرمایہ کاروں کے لیے نئے منصوبے شروع کرنا ناممکن ہو چکا تھا کیونکہ بینکنگ چینل سے قرض لینا انتہائی مہنگا پڑ رہا تھا۔ تاہم، ڈسکاؤنٹ ریٹ کم ہونے سے تجارتی اداروں اور صنعت کاروں کے لیے پیداوری لاگت (Cost of Production) میں واضح کمی آئے گی، جس سے مقامی پیداوار کو فروغ ملے گا۔
شرح سود میں اس کمی سے نہ صرف صنعتی شعبے کو حوصلہ ملا ہے بلکہ عام شہریوں کو بھی کارپوریشنز کی جانب سے تیار کردہ مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام کا فائدہ ملنے کا امکان ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ جب بینک کریڈٹ سستا ہوتا ہے تو اس سے منڈی میں نقدی (Liquidity) کا بہاؤ بڑھتا ہے، جس سے نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور بیروزگاری کی شرح پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔
اسٹیٹ بینک کی شرح سود اور اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ تیزی
مانیٹری پالیسی کمیٹی کی جانب سے اسٹیٹ بینک کی شرح سود میں کمی کے فیصلے کا فوری اور مثبت اثر پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) پر بھی دیکھا گیا ہے۔ فیصلے کا اعلان ہوتے ہی ۱۰۰ انڈیکس میں ہزاروں پوائنٹس کا تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوتا ہوا نظر آیا۔ سستے قرضوں اور سازگار تجارتی ماحول کی بدولت رئیل اسٹیٹ، آٹو موبائل، کنسٹرکشن اور سیمنٹ سیکٹر میں بھی دوبارہ کاروباری سرگرمیاں شروع ہونے کی قوی امید ظاہر کی جا رہی ہے، کیونکہ ان شعبوں کا بنیادی انحصار بینکنگ فنانسنگ پر ہوتا ہے۔
کاروباری برادری، بشمول فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI)، لاہور چیمبر، اور کراچی چیمبر آف کامرس نے اسٹیٹ بینک کے اس فیصلے کا زبردست خیرمقدم کیا ہے۔ تجارتی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ شرح سود میں تسلسل کے ساتھ کمی سے نہ صرف مقامی صنعتی یونٹس کو دوبارہ مکمل طاقت پر چلانے میں مدد ملے گی بلکہ ملکی برآمدات (Exports) کو بھی بین الاقوامی منڈیوں میں دیگر سیمائی ممالک کے مقابلے میں مسابقت کی صلاحیت حاصل ہوگی۔
اس کے ساتھ ساتھ معاشی تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت کو اس موقع پر دیگر بنیادی اخراجات، جیسے کہ بجلی اور گیس کے ٹیرف میں بھی توازن لانا ہوگا تا کہ صنعتی سیکٹر اس سستی شرح سود کا پورا فائدہ اٹھا سکے۔ اگر توانائی کے نرخ قابو میں رہتے ہیں اور مانیٹری پالیسی کا یہ نرم ربط برقرار رہتا ہے تو پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کی نمو میں آئندہ سہ ماہی کے دوران شاندار بہتری دیکھی جا سکتی ہے۔
مرکزی بینک کے اس فیصلے سے ملک کے مالیاتی نظام میں ایک نیا موڑ آیا ہے، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں (Foreign Direct Investment) کو بھی پاکستان کی طرف راغب کرنے میں مدد ملے گی اور ملکی معیشت کی پائیدار بحالی کا راستہ ہموار ہوگا۔




