تازہ ترین

آبنائے ہرمز تنازع اور تیل قیمتیں بڑھنے کے بعد تجارتی جہازوں کی نقل و حمل

آبنائے ہرمز کا بحران: خام تیل 5 فیصد مہنگا ہو گیا

آبنائے ہرمز تنازع: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں

آبنائے ہرمز تنازع اور تیل قیمتیں کا گہرا تعلق ایک بار پھر عالمی سطح پر سامنے آیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھنے سے عالمی منڈی میں خام تیل اچانک 5 فیصد مہنگا ہو گیا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان اس اہم بحری راستے کو کھولنے کے لیے بات چیت جاری تھی۔ تاہم، کسی واضح معاہدے پر اتفاق نہ ہو سکا۔ اس وجہ سے سرمایہ کاروں میں تشویش پھیل گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 87.72 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ امریکی خام تیل کی قیمت بھی 82.13 ڈالر فی بیرل ہو چکی ہے۔

قیمتوں میں یہ اچانک بڑا اضافہ محض ایک دن میں ہوا ہے۔ عالمی منڈی میں 31 جولائی کے بعد یہ سب سے بڑی قیمت ہے۔

قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات

اصل میں، آبنائے ہرمز کی بندش اور سیاسی غیر یقینی اس کا سب سے بڑا سبب ہے۔ اس آبی گزرگاہ سے دنیا بھر کا کثیر تیل اور گیس گزرتی ہے۔ اسی لیے، اس راستے میں ذرا سی رکاوٹ بھی عالمی توانائی منڈی کو ہلا دیتی ہے۔

علاوہ ازیں، امریکی قیادت کے نئے مطالبے نے اس معاملے کو مزید الجھا دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے نقصانات کے ازالے اور معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔ نتیجتاً، دونوں فریقین کے درمیان امن کے امکانات فی الحال مدھم ہو گئے ہیں۔

اگرچہ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے بارودی سرنگیں صاف کر دی ہیں، لیکن بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت پر تاحال خدشات موجود ہیں۔

آبنائے ہرمز تنازع اور تیل قیمتیں: برآمدات میں نمایاں کمی

تاہم، موجودہ کشیدگی کی وجہ سے سپلائی کی شرح بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ معاشی اعداد و شمار کے مطابق خام تیل کی یومیہ برآمدات 44 لاکھ بیرل سے گھٹ کر صرف 30 لاکھ بیرل رہ گئی ہیں۔ چنانچہ، برآمدات میں اس قدر بڑی کمی نے منڈی میں تیل کی کمی کا خوف پیدا کر دیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی، سمندری راستوں پر خطرات بڑھنے سے شپنگ کمپنیوں کے انشورنس اخراجات میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ اس صورت حال میں کئی بحری جہاز طویل اور مہنگے متبادل راستے استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

جبکہ، دوسری جانب عراق نے بھی ایشیائی خریداروں کے لیے اپنے خام تیل کی سرکاری قیمتوں میں ساڑھے دو ڈالر فی بیرل اضافہ کر دیا ہے۔

عالمی معیشت پر متوقع اثرات

آخر میں، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ بحران حل نہ ہوا تو تیل مزید مہنگا ہو سکتا ہے۔ اس کا سیدھا اثر دنیا بھر میں مہنگائی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات پر پڑے گا۔

تاہم، اگر امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں، تو منڈی میں استحکام واپس آ سکتا ہے۔ لیکن فی الحال، عالمی طاقتوں کی نظریں اسی اہم ترین سمندری گزرگاہ پر ٹکی ہوئی ہیں۔

آبنائے ہرمز تنازع اور تیل قیمتیں کا یہ بحران انے والے دنوں میں عالمی معیشت کا رخ طے کرے گا۔

اہم خبریں