تازہ ترین

پنجاب پولیس سیکیورٹی اقدامات اور تبادلے کے بعد ہائی الرٹ کی صورت حال

پنجاب پولیس سیکیورٹی اقدامات اور تبادلے: صوبے بھر میں ہائی الرٹ جاری

پنجاب پولیس سیکیورٹی اقدامات اور تبادلے کا عمل صوبے میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے شروع کر دیا گیا ہے۔ صوبائی پولیس سربراہ عبدالکریم نے 14 پولیس افسران کی نئی تعیناتیوں کے احکامات جاری کیے ہیں۔

اس کے علاوہ، سیکیورٹی کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر صوبے بھر میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے الرٹ موڈ میں ہیں۔

محکمہ پولیس نے جاری نوٹیفکیشن میں انتظامی تبدیلیوں کی تفصیل بتائی ہے۔ مثال کے طور پر، ڈی ایس پی اظہر حسین کو راجن پور منتقل کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، شاہد محمود کو گجرات میں آرگنائزڈ کرائم کا چارج دیا گیا ہے۔

مزید برآں، محمد عبدالہادی کو انویسٹی گیشن ڈی جی خان تعینات کیا گیا ہے۔

اسی طرح، محمد آصف سعید کو خانیوال بھیجا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، سید علی جعفر رضا کو نیو ملتان میں ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔ نیز، اطہر نوید کو بہاولپور ہیڈکوارٹرز کا چارج ملا ہے۔ چنانچہ، انتظامی سطح پر یہ تبدیلیاں کارکردگی بڑھانے کے لیے کی گئی ہیں۔

پولیس افسران کے تقرر و تبادلے کی مکمل فہرست

مزید برآں، ارشد علی کو پی ایچ پی وہاڑی بھیج دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، احسن سلیم کو لاہور ماڈل ٹاؤن میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ جبکہ، لیاقت علی کو وی آئی پی سیکیورٹی کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

علاوہ ازیں، طاہر انیس کو خوشاب میں مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ، محمد زریعت کو دریا خان کا چارج ملا ہے۔ نیز، شہزاد اصغر ورک کو لاہور میں تعینات کیا گیا ہے۔ آخر میں، منصور احمد کو کلب روڈ سیکیورٹی کا چارج سونپ دیا گیا ہے۔

پنجاب پولیس سیکیورٹی اقدامات اور تبادلے کے تحت ہائی الرٹ

دوسری جانب، صوبے بھر میں سرچ اینڈ سویپ آپریشنز تیز کر دیے گئے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 436 سرچ آپریشنز کیے گئے ہیں۔ مزید برآں، 8 تربیتی مشقیں بھی مکمل کی گئی ہیں۔ پولیس ترجمان کے مطابق، ان اقدامات کا مقصد دہشت گردوں کا خاتمہ ہے۔

اس کے علاوہ، رمضان المبارک کے پیش نظر بھی سیکیورٹی سخت رکھی گئی ہے۔ ہمسایہ صوبوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کشیدگی کی اطلاعات ہیں۔ اس کے نتیجے میں، پنجاب کی سرحدوں پر پہرہ بڑھا دیا گیا ہے۔

سرحدی چوکی پر حملہ اور مسیحی عبادت گاہوں کی سیکیورٹی

خاص طور پر، ڈیرہ غازی خان کی لکھانی چوکی پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا دیا گیا۔ تقریباً 25 عسکریت پسندوں نے جدید اسلحے سے حملہ کیا تھا۔ تاہم، پولیس اہلکاروں نے تھرمل کیمروں کی مدد سے بھرپور جواب دیا۔ اس کے بعد، حملہ آور پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔

آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے اہلکاروں کی بہادری کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فورس ہر لمحہ چوکنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، مسیحی عبادت گاہوں پر بھی اضافی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔

افسران خود فیلڈ میں جا کر جائز لے رہے ہیں۔ پنجاب پولیس سیکیورٹی اقدامات اور تبادلے کی بدولت صوبے میں امن کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

اہم خبریں