تازہ ترین

آزاد کشمیر انتخابات

آزاد کشمیر انتخابات: ایل اے 14 میں بڑا اپ سیٹ

آزاد کشمیر انتخابات ایل اے 14 اپ سیٹ نے انتظامی اور سیاسی حلقوں میں ایک نیا اور تاریخی موڑ پیدا کر دیا ہے۔ جمہوری عمل کے اہم مرحلے میں باغ کے مرکزی انتخابی حلقے ایل اے 14 باغ اول سے سامنے آنے والے نتائج نے تمام سیاسی مبصرین اور عوام کو ششدر کر دیا ہے۔

مسلم کانفرنس کے سربراہ اور سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان اپنی روایتی اور آبائی نشست سنبھالنے میں ناکام رہے ہیں اور انہیں ایک بڑی انتخابی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اس غیر متوقع اور ڈرامائی نتیجے نے آزاد کشمیر کے دیرینہ خاندانی سیاسی غلبے اور روایتی انتخابی دباؤ پر ایک کاری ضرب لگائی ہے۔

حلقہ ایل اے 14 ضلع باغ کے تمام پولنگ اسٹیشنوں سے موصول ہونے والے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق جموں و کشمیر دست و بازو پارٹی کے امیدوار سردار ساجد اقبال نے ایک شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔

نتائج کے مطابق سردار ساجد اقبال نے 40 ہزار 702 ووٹ حاصل کر کے پہلے نمبر پر برتری قائم کی، جبکہ ان کے مدِمقابل مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق احمد خان صرف 19 ہزار 542 ووٹ ہی حاصل کر سکے۔

یوں سردار ساجد اقبال نے اپنے تجربہ کار اور سیاسی حریف کے مقابلے میں دگنے سے بھی زیادہ ووٹ حاصل کر کے ایک یکطرفہ اور تاریخی فتح اپنے نام کر لی ہے۔

یہ انتخابی میدان اس لیے بھی انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا تھا کیونکہ یہ نشست سردار عتیق احمد خان کا خاندانی قلعہ سمجھی جاتی تھی۔ ماضی میں ان کے والد محترم اور مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان بھی مسلسل اسی نشست سے کامیاب ہو کر ایوان میں پ

ہنچتے رہے ہیں۔ اس لیے اس قلعے کا مسمار ہونا اور سابق وزیراعظم کا اپنی ہی جنم بھومی سے اتنے بڑے فرق سے ہار جانا خطے میں نئے سیاسی رجحانات اور عوامی سوچ میں تبدیلی کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔

آزاد کشمیر انتخابات ایل اے 14 اپ سیٹ کے تفصیلی حقائق

اس انتخابی معرکے میں عوامی جوش و خروش دیدنی تھا۔ نتیجتاً، ضلع باغ اور حویلی کی تمام اہم نشستوں پر پولنگ کا عمل پرامن طور پر مکمل ہو گیا۔

ووٹوں کی گنتی شروع ہوتے ہی پورے خطے کی نظریں ایل اے 14 پر ٹک گئیں۔ ابتدائی مرحلے سے ہی جموں و کشمیر دست و بازو پارٹی کے رہنما سردار ساجد اقبال آگے رہے۔ بالآخر، ان کی یہ پیش قدمی ایک شاندار اور حتمی فتح میں تبدیل ہو گئی۔

حقیقت یہ ہے کہ ایل اے 14 کے اس اپ سیٹ نے ایک نیا رخ دکھایا ہے۔ علاوہ ازیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ووٹرز اب خاندانی اثر و رسوخ کے بجائے متبادل اور نئے چہروں کو ترجیح دے رہے ہیں۔

آزاد کشمیر انتخابات ایل اے 14 اپ سیٹ نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ اب ووٹرز صرف روایتی سیاست دانوں اور خاندانی اثر و رسوخ پر انحصار کرنے کے بجائے متبادل اور نئے چہروں کو موقع دینے کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔

دیگر قریب واقع حلقوں کے نتائج

ایک طرف ضلع باغ سے مسلم کانفرنس کے سربراہ کو ششدر کر دینے والی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری طرف، قریب واقع دیگر حلقوں میں بھی تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان کڑا مقابلہ دیکھا گیا۔

دستیاب اطلاعات کے مطابق، ایل اے 15 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار ضیاء قمر کو برتری حاصل رہی۔ اسی اثنا میں، ایل اے 16 سے پاکستان مسلم لیگ ن کے نمائندے سردار میر اکبر خان میدان مارتے ہوئے نظر آئے۔

اسی طرح، ایل اے 17 حویلی کی نشست پر بھی مقابلہ سخت رہا۔ تاہم، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل ممتاز راٹھور اپنی پیش رفت برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔

آزاد کشمیر انتخابات ایل اے 14 اپ سیٹ کے نتائج مکمل طور پر مرتب ہونے کے بعد سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ نتیجہ آنے والے دنوں میں خطے کی مجموعی اور پارلیمانی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔

ایک ایسے امیدوار کی اتنی بھاری اکثریت سے کامیابی جس کے مقابلے میں دہائیوں سے حکومت کرنے والی خاندانی سیاست موجود تھی، اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ عوام کا سیاسی شعور بیدار ہو چکا ہے۔

اہم خبریں