تازہ ترین

سلمان اکرم راجہ اور مشال یوسفزئی مبینہ آڈیو لیک

سلمان اکرم راجہ اور مشال یوسفزئی کی مبینہ آڈیو لیک

سلمان اکرم راجہ اور مشال یوسفزئی مبینہ آڈیو لیک نے ملک کی سیاسی فضا بالخصوص پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی حلقوں میں ایک نیا ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔

اس مبینہ صوتی ریکارڈنگ میں جماعت کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجہ اور رہنما مشال یوسفزئی کے درمیان نہایت سخت اور تلخ لہجے میں گفتگو سنی جا سکتی ہے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والے اس مکالمے نے پارٹی کے اندرونی اختلافات، باہمی عدم اعتماد اور تنظیمی مسائل کو عام خلق کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔

اس ریکارڈنگ کی شروعات میں سلمان اکرم راجہ اپنے موقف اور کردار کی صفائی پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے نہایت واضح انداز میں کہا کہ ان کی زندگی ہر ایک کے سامنے بالکل کھلی کتاب کی مانند ہے اور انہوں نے اپنی پوری حیات میں کبھی کوئی ایسا کام نہیں کیا جس پر انہیں شرمندگی اٹھانی پڑے یا جسے چھپانے کی ضرورت محسوس ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی زندگی کا ایک بھی لمحہ ایسا نہیں ہے جس پر کوئی شخص انگلی اٹھا سکے یا ان کی دیانت داری پر شک کر سکے۔ انہوں نے اپنے اوپر لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ سچ کے راستے پر چلے ہیں۔

انہوں نے سخت انداز میں سوال اٹھایا کہ ان کی کون سی بات یا قدم کو سازش کا نام دیا جا رہا ہے؟ اگر کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو وہ سب کے سامنے لائے تاکہ لوگوں کو ان کی نام نہاد سازش کا علم ہو سکے۔

دوسری جانب، اس ریکارڈنگ میں مشال یوسفزئی کا لہجہ نہایت جارحانہ اور الزامات سے بھرا ہوا نظر آتا ہے۔ انہوں نے قانونی و عدالتی محاذ پر حکمت عملی سے متعلق شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

ان کا ماننا تھا کہ عدالتوں کے اندر مقدمات کی پیروی کے دوران اراکینِ پارلیمان کا عملی کردار نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اراکینِ پارلیمان کو عدالتوں سے باہر رہ کر اپنا کام کرنا چاہیے۔

اصلی دباؤ اور سیاسی تحرک تو وکلا کی تنظیموں اور بار کونسل کے اراکین کے ذریعے پیدا کیا جانا چاہیے تھا۔

سلمان اکرم راجہ اور مشال یوسفزئی مبینہ آڈیو لیک میں سنگین الزامات

مشال یوسفزئی نے سلمان اکرم راجہ پر پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم اور تنظیمی ڈھانچے کے حوالے سے انتہائی سنگین داغ لگائے۔ انہوں نے ادعا کیا کہ پیسے لے کر مختلف افراد کو پارٹی ٹکٹ جاری کیے گئے اور مختلف قسم کی سازشیں اور لابنگ کر کے ایک مخصوص ٹیم تشکیل دی گئی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ جن لوگوں کو آگے لایا گیا اور جنہیں مختلف جگہوں پر ممبر بنایا گیا، ان کا نہ تو پاکستان تحریک انصاف سے کوئی بنیادی تعلق تھا اور نہ ہی ان کا انصاف وکیل فورم سے کوئی واسطہ رہا ہے۔

اس گفتگو میں مشال یوسفزئی نے کروڑوں روپے کی بھاری مشاورتی فیسوں کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے سلمان اکرم راجہ سے سیدھا سوال کیا کہ کروڑوں روپے کی جو فیسیں لی گئی تھیں، اس کے بعد اب وہ لوگ کہاں ہیں؟

انہوں نے کہا کہ اگر میری بات غلط ثابت ہو جائے تو میں خود واٹس ایپ یا پارٹی کے باضابطہ گروپ میں معافی مانگنے کے لیے تیار ہوں، لیکن حقیقت یہی ہے کہ مسلسل جھوٹ بولا گیا ہے اور پی ٹی آئی کے مفادات کے خلاف سازشیں کی گئی ہیں۔

مشال یوسفزئی نے بات کو یہاں تک بڑھایا کہ انہوں نے بانی چیئرمین کے سماجی رابطوں کے برقی کھاتوں (سوشل میڈیا اکاؤنٹس) کے غیر متعلقہ اور ذاتی استعمال کا الزام بھی عائد کر دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سلمان اکرم راجہ نے بانی کے نام اور ان کے سماجی کھاتوں کو اپنے ذاتی مقاصد اور تشہیر کے لیے استعمال کیا۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ ان تمام حقائق اور دستاویزات کو تحریری شکل میں سامنے لے آئیں، تو سلمان اکرم راجہ خود شدید حیران و پریشان ہو جائیں گے۔

سلمان اکرم راجہ اور مشال یوسفزئی مبینہ آڈیو لیک کے منظر عام پر آنے سے پارٹی کا اندرونی بگاڑ، ٹکٹوں کی تقسیم پر اٹھنے والے سوالات اور قانونی محاذ پر جاری باہمی نااتفاقی کھلم کھلا سامنے آ چکی ہے۔

عام کارکنان اس صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر اعلیٰ قیادت نے وقت پر ان اندرونی تنازعات کو حل نہ کیا تو تنظیم کو مزید سیاسی اور قانونی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اہم خبریں